تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 442
خطاب فرمودہ 17 جون 1937 ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول کے اسوہ کی تقلید اپنے لئے فخر سمجھیں مگر یاد رکھو منہ کی باتوں سے کچھ نہیں بنتا۔ہم نے دیکھا ہے کہ جماعت کے لوگوں میں سے بھی بعض نے اور دوسروں میں سے بھی بہتوں نے بڑے بڑے زبانی دعوے کئے۔میری عمر اس وقت سینتالیس سال کی ہوگی۔میں نے اپنی عمر میں بہت لوگوں کو باتیں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔وہ دعوے کرتے کہ بہت قربانیاں کریں گے۔ان کا دعویٰ تھا کہ وہ خدا کے راستہ میں اپنی جانیں دے دیں گے لیکن جب ان کے دعوی کو عملی رنگ میں دیکھنے کا وقت آیا تو وہ تقویٰ میں بھی کچے ثابت ہوئے اور قربانی کے موقع پر بھی کچے ثابت ہوئے۔پس ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں بلکہ ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو اپنی زندگیوں کو ملی طور پر اسلام کے سانچے میں ڈھال لیں اور اسلام میں غرق ہو جائیں۔ان کی قربانیاں کسی شرط کے ساتھ مشروط نہ ہوں۔کیونکہ ایمان وہ شے ہے جس میں کوئی حد بندی نہیں ہوسکتی۔ایک دفعہ حضرت عمر نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ مجھے آپ سے بہت محبت ہے۔اتنی محبت جتنی مجھے اپنی جان سے ہو سکتی ہے۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عمر تم ابھی ایمان میں کامل نہیں ہوئے اور تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک تم مجھ سے اپنی جان سے بھی زیادہ محبت نہیں کرتے۔حضرت عمرؓ کے دل میں ایمان تھا۔وہ اسی وقت بول پڑے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں۔یہی وہ ایمان ہے جو حقیقی ایمان کہلا سکتا ہے۔شرطوں والا ایمان کوئی ایمان نہیں اور نہ وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک قبول ہوتا ہے۔پس میں بچوں سے کہتا ہوں کہ ان کی یہاں آنے کی غرض یہ ہے کہ ان کے اندر ایمان کی محبت جاگزین ہو جائے۔وہ اسلام کیلئے ہر قربانی کرنے کو عین راحت اور ہر تکلیف کو آرام سمجھیں، کیونکہ ہم نے ہر ایک قربانی کر کے اسلام کو پھیلانا ہے۔پس کوئی قربانی ایسی نہ ہو جو تمہاری نظروں میں بیچ نہ ہو اور کوئی کام نہ ہو جو تمہیں بڑا نظر آئے۔تمہیں صرف ایک چیز کی دھن ہو اور وہ یہ کہ قرآن کریم کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانا ہے۔اس راستے میں تمہارے لئے کوئی مشکل مشکل نہ رہے اور کوئی مصیبت مصیبت نہ رہے۔تم تمام تکالیف اور تمام مشکلات پر حقارت سے مسکرا دو، کیونکہ مومن کی نظر ان تمام چیزوں سے بالا تر ہوتی ہے۔تمہارے دعوے محض زبان تک محدود نہ ہوں بلکہ تمہارے دلوں میں اسلام کی محبت جاگزین ہو۔تمہارے لئے کوئی تکلیف تکلیف نہ رہے اور تمام آگیں تمہارے لئے ٹھنڈی ہو جائیں۔حضرت مسیح موعود کو ایک دفعہ نہایت سنگین مقدمہ میں مبتلا کیا گیا۔یہ مقدمہ مشہور مارٹن کلارک عیسائی پادری کی طرف سے 442