تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 440

خطاب فرموده 17 جون 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول لئے انہوں نے مختلف زبانیں سیکھیں۔پس یہی وہ معجزہ ہے جس کی پہلوں کو ضرورت تھی اور یہی وہ معجزہ ہے جس کی ہم کو ضرورت ہے۔ہمیں ضرورت ہے کہ ہمارے نو جوان مختلف ملکوں میں نکل جائیں اور وہاں جا کر مختلف زبانیں سیکھیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ صرف ہندوستان ہی میں کئی سو مختلف زبانیں ہیں اور اگر تمام ملکوں کی زبانوں کو شمار کیا جائے تو ان کی تعداد کئی ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔جب تک یہ تمام زبانیں ہمارے نو جوان نہیں سیکھ لیتے اس وقت تک تمام ملکوں میں تبلیغ نہیں کی جاسکتی۔میرا مقصد تحریک جدید سے ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے نوجوان دنیا کی تمام زبانیں سیکھیں تا کہ ہر ملک میں اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کی جا سکے۔گو اس وقت بھی یہ مقصد ایک حد تک پورا ہو رہا ہے مثلاً چین میں ہمارے آدمی ہیں جو چینی زبان سیکھ رہے ہیں، جاپان میں ہمارے مبلغ جاپانی زبان سیکھ رہے ہیں، جاوا میں ہمارے مبلغ وہاں کی زبان سیکھ رہے ہیں۔اسی طرح سٹریٹ سیٹلمنٹ ، ہنگری، اٹلی ، سپین، امریکہ کے ایک حصہ، ارجنٹائن اور افریقہ کے بعض حصوں میں ہمارے آدمی موجود ہیں جو ان ملکوں کی زبانیں سیکھ رہے ہیں، لیکن ابھی ہمارا بہت سا کام باقی ہے اور بیسیوں ملک ابھی رہتے ہیں۔اس وقت تک ہم نے جو کچھ کیا ہے وہ سمندر کے مقابلہ میں ایک چلو کے برابر ہے اور ابھی بہت سے ملک ایسے موجود ہیں جن میں ہماری تبلیغ نہیں ہورہی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے مبلغ ان ممالک کی زبا نہیں نہیں جانتے اور ہمارے پاس اتنے آدمی بھی نہیں کہ ان ملکوں میں چلے جائیں اور وہاں جا کر زبانیں سیکھیں اور تبلیغ کریں۔پس میں جماعت کے نو جوانوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جو جوش اور ولولہ مولوی عبد اللہ صاحب نے سنسکرت کی تعلیم کے حصول کے لئے دکھایا ہے اسے وہ بھی اپنے اندر پیدا کر یں۔پھر میں یہ دعا بھی کرتا ہوں کہ مولوی عبداللہ صاحب نے نہایت کمزور صحت کی حالت میں جو تعلیم حاصل کی ہے وہ دوسروں کے لئے بھی مفید ہو اورصدقہ جاریہ کا کام دے، کیونکہ کسی کام کا ثواب اسی صورت میں ہوتا ہے کہ دوسروں کو بھی اس سے مستفیض کیا جائے۔خالی کسی علم کا سیکھنا کچھ فائدہ نہیں دیتا۔وہ شخص بڑا ہی خوش قسمت ہے جو دوسروں کو اس قابل بنائے کہ وہ اور وں کیلئے مفید ثابت ہوسکیں۔پس مولوی صاحب کو چاہئے کہ وہ اپنا علم دوسرں کو سکھانے کیلئے بھی ویسی ہی محنت اور جانفشانی سے کام لیں جو انہوں نے اس علم کو سیکھنے میں دکھائی ہے۔یہ نہایت ہی خوشی کی بات ہوگی اگر وہ اپنی زندگی میں اس علم کو دوسروں تک پہنچادیں۔اس کے بعد ان بچوں اور نوجوانوں کو مخاطب کرتا ہوں جن کی طرف سے آج یہ مہمان نوازی کی گئی ہے۔مہمان نوازی سے مراد پانی اور شربت وغیرہ نہیں۔ہمارے مہمان نواز وہ بچے ہیں جو اس وقت 440