تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 439

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطاب فرموده 17 جون 1937ء دنیا کی تمام زبانیں سیکھو اور اسلام کے لئے ہر قربانی کوعین راحت سمجھو خطاب فرمودہ 17 جون 1937ء مولوی ناصرالدین عبد اللہ صاحب کے اعزاز میں دی گئی دعوت کے موقع پر بورڈنگ تحریک جدید میں احمدی نوجوانوں اور بچوں سے خطاب سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ابھی مولوی عبد اللہ صاحب نے آپ کے سامنے اپنے واقعات بیان کئے ہیں اور بتایا ہے کہ کس طرح اسلام کی خدمت کے ارادہ سے انہوں نے اپنے وطن کو چھوڑا، اپنے عزیز واقارب کو چھوڑا اور ساڑھے سات سال تک وطن سے باہر رہ کر سنسکرت اور ویدوں کی تعلیم حاصل کی۔یہ عرصہ گو اپنی ذات میں لمبا نہیں، دنیا میں اس سے بہت زیادہ لمبے عرصہ تک باہر رہنے والے لوگ بھی ہوتے ہیں، لیکن جس صحت کی حالت میں انہوں نے یہ کام کیا اور جن مشکلات میں انہوں نے یہ کام کیا اور جس مالی تنگی میں انہوں نے یہ کام کیا اس کو مدنظر رکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے اپنے ہم عصروں اور اپنے ہم جولیوں کیلئے ایک نہایت ہی عمدہ مثال قائم کی ہے۔اگر ہمارے دوسرے نو جوان بھی اس بات کو مدنظر رکھیں کہ آرام طلبی اور باتیں بنانے سے کچھ نہیں بنتا بلکہ کام کرنے سے ہی حقیقی عزت حاصل ہوتی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں مختلف زبانوں کے ماہر نہایت سہولت کے ساتھ مہیا ہو سکتے ہیں۔ہماری جماعت حضرت مسیح موعود کی جماعت ہے جو مثیل مسیح ہیں اور مسیح ناصری کے متعلق انجیلوں میں آتا ہے کہ ان کا بڑا معجزہ یہ تھا کہ ان کے پیراؤں اور حواریوں کو مختلف زبانیں بولنی آگئی تھیں۔انجیل میں اس معجزہ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ایک جلسہ میں حضرت مسیح کے چند حواری بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ اچانک وہ مختلف زبانوں کے فقرات بولنے لگ گئے اور ایک دوسرے سے مختلف زبانوں میں باتیں کرنے لگے۔لیکن مختلف زبانوں کو جان لینا کوئی بڑی بات نہیں اور نہ اس سے کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے جب تک کہ انہیں تبلیغ کیلئے استعمال نہ کیا جائے۔ان لوگوں نے اس پیشگوئی کا مطلب بھی یہی سمجھا۔چنانچہ وہ عیسائیت کی اشاعت کیلئے نکل کھڑے ہوئے اور مسیح کی تعلیم کو دور دراز تک پہنچانے کے 439