تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 436
خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جون 1937ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول ان کی آزمائش کرے اور منافقوں کو بھی زور لگانے کا موقع دے۔تو جو اس کی مرضی اور مشیت ہے ہم بھی اسی پر رضامند ہیں۔پس دوست خصوصیت کے ساتھ دعائیں کریں اور جن کیلئے ممکن ہو روزے رکھیں اور کوشش کریں کہ سوائے بیماری کے یا کسی اور وجہ کے انہی ایام میں رکھیں تا دعائیں کثیر تعداد میں ہوں اور اکٹھی آسمان کو جائیں۔یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ کا سلسلہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آخری جنگ ہے جو اسلام کو دنیا میں دوبارہ قائم کرنے کیلئے لڑی جارہی ہے۔افترا کی جتنی صورتیں انسانی ذہن میں آسکتی ہیں۔فریب اور دعا کے جتنے طریق انسانی دماغ ایجاد کر سکتا ہے اور گمراہ کرنے اور ورغلانے کیلئے شیطان جتنی تدابیر اختیار کر سکتا ہے وہ سب احمدیت کے خلاف کی گئیں اور اختیار کی جارہی ہیں مگر باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سلسلہ کی حفاظت کا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔نہ دشمنوں کی طاقت اس وعدہ کے پورا ہونے میں روک ہوسکتی ہے اور نہ ہمارے ضعف یا کمزوری سے اس کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کی ترقی کے وعدے کئے تو یہ جانتے ہوئے کئے تھے کہ جماعت کتنی کمزور ہے اور اس علم کے ساتھ کئے تھے کہ ہمارے دشمن کتنے طاقتور ہیں۔وہ عالم الغیب خدا جانتا ہے کہ اس جماعت پر کتنے حملے ہونے والے ہیں اور کہ وہ ان کے دفاع کی کس قدر طاقت رکھتی ہے۔مگر اس نے باوجود یہ جاننے کے کہ جماعت میں کتنی طاقت ہے اور یہ کہ دشمن اسے نقصان پہنچانے کیلئے ہر وہ طریق اختیار کرے گا جو پہلے انبیاء کے سلسلوں کے مقابل پر اختیار کئے گئے اس کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے جو پورا ہو کر رہے گا اور خدا کی نصرت تمام تاریکیوں کو پھاڑ کر اس کا نور ہزار ہا بادلوں کو چیرتا ہوا ظا ہر ہو گا۔دشمن کی تخویف ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکے گی اور اس کے تمام مکر و فریب ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔یہ کلام اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود پر نازل کیا۔پھر ہزاروں احمدیوں اور غیر احمد یوں پر اس کی تصدیق کے لئے اسی کا کلام نازل ہوا۔ہم اگر دعا کرتے ہیں تو اس لئے نہیں کہ ہمیں خدا کی نصرت پر شبہ ہے، بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی نصرت جلد آئے۔تا اس میں ہمارا بھی ہاتھ ہو اور اللہ تعالیٰ اس میں شامل ہونے کا موقعہ ہمیں بھی عطا کر دے۔ہماری یہ دعا ئیں اس خوف سے نہیں کہ دشمن ہمیں نقصان پہنچائے گا اور شبہ سے نہیں کہ سلسلہ کی ترقی کس طرح ہوگی بلکہ اس یقین کے ساتھ ہیں کہ ترقی ضرور ہوگی۔پس آؤ ہم سب مل کر وہ سب سے بڑا حربہ اور سب سے زبر دست ہتھیار جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے، استعمال کریں اور اپنی کمزوریوں کو اس 436