تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 434
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 اپریل 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول بار بار سامنے آتی رہے اس کی طرف دل متوجہ ہو جاتے ہیں اور کئی کمزور بھی جو پہلے حصہ لینے کیلئے تیار نہیں ہوتے حصہ لینے لگ جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی نکتہ کی طرف راہبری کرتے ہوئے فرماتا ہے:- فَذَكَّرُ انُ نَفَعَتِ الذِّكْرُى (الاعلى: 10) کہ تو لوگوں کو نصیحت کرتا چلا جا کیونکہ نصیحت بہت دفعہ فائدہ دے جایا کرتی ہے۔پس میں کہتا ہوں کہ ان دنوں کو خاموشی سے مت گزار و بلکہ روزے رکھو اور دعائیں کرو اور لوگوں سے کہو کہ وہ روزے رکھیں اور دعائیں کریں۔جماعتوں کے پریذیڈنٹوں کو چاہئے کہ وہ مساجد میں بار بار لوگوں کو یاد دلاتے رہیں کہ ان ایام میں ان فتنوں کے دور ہونے کیلئے دعائیں کی جائیں جو اس وقت ہمارے سامنے ہیں ، ان مقاصد کے لئے دعائیں کی جائیں جو سلسلہ احمدیہ کے قیام سے تعلق رکھتے ہوں اور ان کمزوریوں کے لئے دعائیں کی جائیں جو خواہ ہم میں پائی جاتی ہیں یا دنیا کے اور افراد میں۔تا اللہ تعالیٰ کے فضل ایسے رنگ میں نازل ہوں کہ وہ مصائب کے پہاڑ جودشمنوں کی طرف سے ہمارے راستہ میں گرائے گئے ہیں پاش پاش ہو جا ئیں اور ہمیں کامیابی ، ترقی ، نیکی اور تقویٰ کے سامان زیادہ سے زیادہ عطا ہوں۔پس دعا کے متعلق تمہاری کوشش اور ہمت دوسری کوششوں اور ہمتوں سے کم نہیں بلکہ زیادہ ہوئی چاہئے کیونکہ یہ مطالبہ بھی دوسرے مطالبات سے کم نہیں بلکہ زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔پس روزوں کو یا درکھو اور دوسروں کو یاد دلاتے رہو اور دعاؤں کو یا درکھو اور دوسروں کو دعاؤں کے لئے کہتے رہو کیونکہ کام بہت بڑا ہے اور مشکلات بہت زیادہ ہیں۔ہم کمزور اور بے بس ہیں۔ہماری کمزوریاں ہم پر عیاں ہیں بلکہ ہم خود بھی اپنی کمزوریوں سے اتنے واقف نہیں جتنا ہمارا خدا۔پس ہم اسی سے مدد طلب کرتے اور اسی کی نصرت اور تائید اپنے ہر کام میں چاہتے ہیں۔( مطبوع الفضل 24 اپریل 1937 ء ) 434