تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 418

خطبہ جمعہ فرمودہ 19 مارچ 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول نے دیکھا کہ ایک نہایت حسین نو جوان اس کرسی پر آکر بیٹھ گیا اور رویا میں میں سمجھتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ ہے اور ہم سب اس گھبراہٹ اور پریشانی میں حیران ہیں کہ کیا انجام ہوگا کہ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے سامنے کئے جانے کا حکم دیا اور اس پر نگاہ ڈال کر فرمایا کہ اس شخص کو لے جاؤ اور جنت میں داخل کر دو۔پھر ایک اور شخص کو خدا تعالیٰ نے آگے لانے کا حکم دیا جو بظا ہر نہایت حسین اور خوبصورت نوجوان تھا۔جب وہ سامنے لایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف دیکھا مگر اس سے کوئی سوال نہیں کیا گویا اس کی نظروں میں ہی سارے سوال ہو گئے۔میں نے دیکھا کہ اس کا گوشت ، اس کی ہڈیاں اور اس کے تمام عضلے کھال کے اندر یوں نرم ہونے شروع ہوئے جیسے کوئی موم وغیرہ پکھل کر سیال ہو جاتی ہے۔ہم نے محسوس کیا کہ اس کی کھال کے نیچے کی ہر چیز پیپ بن گئی ہے اور وہ سر سے پیر تک پیپ کا تھیلا بن کر رہ گیا ہے۔تب خدا تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ اسے لے جاؤ اور جہنم میں داخل کر دو۔اس وقت میں نے ایک نہایت عجیب رحمت کا نظارہ دیکھا کہ فرشتوں نے جس وقت جنتی کو جنت میں داخل کیا تو دروازے کو کھولا گیا اور جنت کی ہوائیں باہر والوں کولگیں لیکن جس وقت دوزخی کو دوزخ میں داخل کیا تو دروازے کو نہایت تھوڑ اسا کھولا اور آگے خود کھڑے ہو گئے اور اُسے دھکیل کر اندر کر کے دروازہ فوراً ہی بند کر دیا تا وہاں کی مسموم ہوا ئیں دوسروں کو نہ چھوئیں۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ کھڑا ہو گیا اور فرمایا کہ اس وقت بس اتنا ہی کہا حساب لینا تھا۔ابھی محشر کا دن نہیں آیا مگر شاید تم میں سے بعض لوگ اپنے انجام دیکھنا چاہتے ہوں وہ اپنی پیٹھ کی طرف دیکھیں جس کی پیٹھ کی طرف کی دیوار کی کچھ اینٹیں پکی ہوں گی وہ جنتی ہے اور جس کی سچی ہوں گی وہ دوزخی ہے۔یہ کہ کر اللہ تعالیٰ چلا گیا اور ہم لوگ جو وہاں بیٹھے تھے خاموشی سے بیٹھے رہے کسی کو یہ جرات نہ تھی کہ مڑ کر پیٹھے کی طرف دیکھے۔ہم بیٹھے رہے اور وقت گزرتا گیا، گزرتا گیا اور گزرتا گیا۔جب ایک کافی عرصہ گزر گیا تو میرے دل میں ایک خیال پیدا ہوا۔میں نے دیکھا کہ میرے دائیں طرف حضرت خلیفہ ایسی اول بیٹھے ہیں۔ان کی طرف جھکا اور کہا کہ مجھ سے تو پیچھے مڑ کر دیکھا نہیں جاتا انہوں نے فرمایا میری بھی یہی حالت ہے۔میں نے کہا مجھے ایک خیال آیا ہے۔میں آپ کی پیٹھ کے پیچھے دیکھتا ہوں اور آپ میری پیٹھ کے پیچھے دیکھیں۔اس پر انہوں نے میری پیٹھ کے پیچھے دیکھا اور میں نے ان کی پیٹھ کے پیچھے اور ایک ہی وقت میں ہم دونوں چلائے کہ پیچھے اینٹیں پکی ہیں اور جیسا کہ شدید خوشی کی حالت میں جب وہ شدید مایوسی کے بعد پیدا ہو انسان کے قومی مضمحل ہو جاتے ہیں ہمارے جسم ڈھیلے ہو کر ز میں پر گر گئے اور میری آنکھ کھل گئی۔میں، آج کہ اس پر قریباً 33 سال گزر گئے ہیں، اس نظارہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے اسی طرح 418