تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 417

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 19 مارچ 1937ء کرنی چاہئے تا وہ خدا تعالیٰ کا مظہر اپنی ذات میں ہو جائیں اور خدا تعالی براہ راست خودان پر نگاہ ڈالے۔میں نے خطبہ جمعہ کے شروع میں مومن کی مثال ایک آئینہ سے دی تھی۔یہ مجھے خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے ایک دفعہ رویا میں سمجھائی گئی تھی۔ایک دفعہ میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک مکان میں کھڑا ہوں اور میرے سامنے حکیم غلام محمد صاحب مرحوم کھڑے ہیں۔نظر تو وہی اکیلے آتے ہیں مگر خیال یہ ہے کہ بہت سے لوگ ہیں اور میں ان میں تقریر کر رہا ہوں۔میرے ہاتھ میں ایک آئینہ ہے اور اس کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہوں کہ دیکھو کہ ایک حسین انسان اپنے حسن کو آئینہ میں دیکھتا ہے اور اس آئینہ کو بڑا قیمتی سمجھتا ہے اور سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے اس کا حسن اسے نظر آتا ہے لیکن اگر آئینہ میلا ہو جائے اور اس میں حسن پوری طرح نظر نہ آئے تو پہلے تو مالک اُسے صاف کر کے کام چلاتا ہے لیکن اگر وہ زیادہ میلا ہوتا چلا جائے تو ایک دن پھر ایسا آجاتا ہے کہ اس میں مالک کی شکل اچھی طرح نظر نہیں آتی اور وہ سمجھتا ہے کہ اب یہ میرے لئے بے کار ہے اور وہ اُٹھا کر اُسے پھینک دیتا ہے اور وہ ٹکرے ٹکرے ہو جاتا یہ کہہ کر میں نے وہ شیشہ اُٹھایا اور زور سے زمین پر پھینک دیا اور وہ ریزہ ریزہ ہو گیا اور اس کے ٹوٹنے سے آواز پیدا ہوئی۔میں نے کہا دیکھو خدا تعالیٰ بھی بندوں سے ایسا ہی سلوک کرتا ہے جس طرح اس خراب اور گندے شیشے کے ٹوٹنے سے ہمارے دلوں کو رنج نہیں ہوتا اسی طرح خدا تعالیٰ بھی ایسے شخص کی و پروا نہیں کرتا جو اس کے حسن اور چہرے کو دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔پس میں جماعت کے احباب کو نصیحت کرتا ہوں۔کہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے لئے آئینہ بناؤ لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ آئینے بھی میلے ہو جاتے ہیں۔تم اپنے آپ کو صاف بھی کرتے رہو۔بعض دفعہ صفائی دوسرے ہاتھ کی محتاج ہوتی ہے۔انسان خود صفائی نہیں کر سکتا۔ایسی صورتوں میں اپنے بھائی کی امداد کرو۔اس سے متعلق بھی مجھے رویا یاد آیا ہے جو بچپن کے زمانہ کا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان دنوں زندہ تھے۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس وقت میں سکول میں پڑھا کرتا تھا اور میں نے سکول 1905ء میں چھوڑا ہے۔اس لحاظ سے یہ رویا 1903ء یا1904 ء کا ہے جبکہ میری عمر قریبا پندرہ سولہ سال کی تھی۔میں نے دیکھا کہ ان کمروں میں سے ایک میں کہ جن میں مدرسہ احمدیہ کے لڑکے آجکل پڑھتے ہیں یعنی وہ کمرے کہ جو کنوئیں کے سامنے ہیں۔ان میں سے درمیانی کمرہ میں ہم کچھ لوگ بیٹھے ہیں گو وہ آدمی جو نظر آتے ہیں تھوڑے ہیں مگر خیال ہے کہ یہاں ساری دُنیا کے لوگ جمع ہیں۔ماضی، حال اور مستقبل کے بھی۔گویا وہ محشر کا دن ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کی انتظار میں ہیں کہ آئے حساب لے اور فیصلہ فرمائے۔ایک میز لگی ہوئی ہے جس کے سامنے ایک کرسی پڑی ہے اور چند فرشتے دائیں بائیں کھڑے ہیں اتنے میں میں 417