تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 416

خطبہ جمعہ فرموده 19 مارچ 1937ء وہ ہو۔تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول دئے لئے چلا جاتا ہے اور یہی سبق مومن کو بھی حاصل کرنا چاہئے اس کی توجہ کا فرو مومن کے لئے یکساں ہونی چاہئے ، گمراہ اور ہدایت یافتہ کے لئے یکساں ہونی چاہئے مگر میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے دوستوں کو اس وقت نظر سے ابھی وابستگی پیدا نہیں ہوئی۔زیادہ تر ان میں سے وہی ہیں جو غیروں میں تبلیغ تو کر دیتے ہیں مگر اپنی جماعت کی تربیت کی طرف ان کی توجہ نہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ہماری جماعت میں بعض نئے پیدا ہونے والے بچے سلسلہ کی تعلیموں اور سلسلہ کی اغراض سے بالکل ناواقف ہیں اور اُن کا مذہب صرف ورثہ کا مذہب ہے۔وہ اسی طرح گمراہی کا شکار ہو سکتے ہیں جس طرح دوسرے فرقوں اور دوسری قوموں کے لوگ۔حالانکہ اللہ تعالٰی مومن اور کافر دونوں کی طرف یکساں اپنے فضل کو بڑھاتا ہے۔گوجیسا کہ میں بتا چکا ہوں فضل کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔پس میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ تعلیم و تربیت کو مد نظر رکھیں اور ہمیشہ ایک بھائی دوسرے کے لئے مشعل راہ بنا ر ہے اور ماں اور باپ اپنے بچوں کی دینی تربیت ایسے طور پر کریں کہ آئندہ نسلیں اخلاص میں پچھلوں سے کم نہ ہوں بلکہ زیادہ ہوں اور نہ صرف اپنے بچوں کی خبر گیری رکھیں بلکہ اپنے ہمسایوں اور محلہ کے بچوں کی بھی خبر گیری رکھیں کیونکہ کئی ماں باپ کمزور ہوتے ہیں اور وہ تربیت کر ہی نہیں سکتے اور کئی ماں باپ دوسرے کاموں میں ایسے مشغول ہوتے ہیں کہ وہ تربیت کے لئے وقت ہی نہیں نکال سکتے۔پھر جبکہ اللہ تعالیٰ نے رب العالمین کی صفت کا ہم کو مظہر بنایا ہے تو پھر ہمارا فرض بھی تو ہے کہ ہم صرف اپنی نگاہ کو ایک محدود دائرہ میں مقید نہ رکھیں بلکہ ہماری نگاہ وسیع ہو اور ہمارے ہمسایوں اور محلے والوں کو بھی ہماری ان خوبیوں سے حصہ ملے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمیں عطا ہوئی ہوں۔اگر ہمارے دوست ان دو نکتوں کو یا درکھیں اور اپنی نیکیوں کو بے استقلالی کا شکار نہ ہونے دیں اور اپنی نظروں کو مقید ہونے سے بچائیں بلکہ جس طرح خدا تعالیٰ کی صفات وسیع ہیں ان کی نیکیاں بھی وسیع ہوں تو یقیناً ہماری جماعت ایک ایسے مقام پر کھڑی ہو جائے کہ جس کے بعد کوئی منزل نہیں اور انہیں ایک ایسی فتح حاصل ہو جس کے بعد کوئی شکست نہیں لیکن اگر یہی جگانے اور سونے کا ہی سلسلہ چلا گیا تو انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ دنیا فانی ہے اور کبھی اس دنیا سے جگانے والے بھی اٹھ جاتے ہیں۔پھر وہ ایسے سوئیں گے کہ جا گنا مشکل ہوگا اور ایسی غفلت کا شکار ہوں گے کہ جس کے آخر میں ہوشیاری کا پتہ نہ چلے گا۔پس انہیں خدا تعالیٰ کی سنتوں کو بھولنا نہیں چاہئے اور اپنے اندر مومن والا استقلال اور مومن والی وسعت نظر پیدا 416