تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 415
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبه جمعه فرموده 19 مارچ 1937ء پڑا رہتا ہے۔بہت سے دوستوں کی حالت میں دیکھتا ہوں ایسی ہی ہے۔جب انہیں کہا جاتا ہے نمازیں پڑھو تو وہ نمازوں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔پھر جب کہا جاتا ہے چندے دو ! تو وہ چندے دینے لگ جاتے ہیں مگر نمازوں میں ڈھیلے ہو جاتے ہیں۔پھر جب کہا جاتا ہے کہ تبلیغ کرو تو وہ تبلیغ کرنے لگ جاتے ہیں مگر نمازوں اور چندوں میں سست ہو جاتے ہیں۔پھر جب کہا جاتا ہے روزے رکھو تو روزے رکھنے لگ جاتے ہیں مگر نمازوں اور چندوں اور تبلیغ میں سستی آجاتی ہے۔غرض جس طرح ایک چھوٹا بچہ ہر وقت سہارے کا محتاج ہوتا ہے اور اپنی توجہ صرف ایک ہی چیز کی طرف رکھ سکتا ہے، ان کی توجہ محدود رہتی ہے اور پھر اس میں بھی سہارے کی محتاج۔اگر تحریک جدید پر ہمارے دوست غور کریں تو وہ اُنہیں مسائل جو میں نے اس میں بیان کئے تھے اول تو وہ دیکھیں گے کہ ان کو سارے یاد بھی نہیں اور پھر وہ محسوس کریں گے کہ ان میں سے ایک ایک چیز کی طرف وہ ایک ایک وقت میں متوجہ رہے ہیں۔جب چندے کا زور ہوا تو چندہ دینے لگے اور جب تبلیغ کا زور ہوا تو تبلیغ میں مشغول ہو گئے اور جب دُعا کی تحریک ہوئی تو دعاؤں میں لگ گئے اور جب سادہ زندگی پر زور دیا گیا تو اس کی طرف توجہ کرنی شروع کر دی، جب ہاتھ سے کام کرنے پر زور دیا تو ہاتھ سے کام کرنے لگ گئے اور پھر آرام سے گھروں میں بیٹھ گئے لیکن انہیں یا درہنا چاہئے کہ اس تحریک کی تکمیل تو اس کی ہو چھٹیوں جہات کی تکمیل کے ساتھ ہی ہو سکتی تھی۔اگر مکان کی ایک وقت میں ایک ہی دیوار قائم رہے تو وہ مکان حفاظت کا کس طرح موجب ہو سکتا ہے؟ اگر انسان ایک طرف توجہ کرے اور دوسری کو چھوڑ دے تو اس کے یہی معنے ہوں گے کہ جب وہ اپنے مکان کی دوسری دیوار کو کھڑا کرے تو پہلی کو گرا دے۔ایسا شخص کبھی بھی اپنے مکان کو مکمل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا وہ تو گرا تا اور بنا تا ہی رہے گا نہ بھی چھت پڑے گی اور نہ اس کا مکان رہائش کے قابل ہوگا۔ایسا شخص تو بہت ہی قابل رحم ہے اور سب سے زیادہ رحم اُسے اپنی جان پر آنا چاہئے مگر کتنے ہیں جو اپنی جانوں پر رحم کر کے اپنے اندر یہ تبدیلی پیدا کرتے ہیں کہ نیکیوں میں دوام پیدا کریں اور یہ نہ ہو کہ ایک کو اختیار کرتے وقت دوسری کو چھوڑ بیٹھیں۔اسی طرح ربوبیت عالمین میں ایک موٹی چیز ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توجہ کا فرو مومن کی طرف یکساں ہے یعنی وہ عالم کفار کی بھی پرورش کر رہا ہے اور عالم مؤمنین کی بھی پرورش کر رہا ہے۔گو عالم مومنین کی پرورش عالم کفار کی پرورش سے مختلف ہے مگر دونوں جگہ پر پرورش کا کام جاری ہے۔کسی جگہ پر تو تبلیغ کے ذریعہ سے اس کی ربوبیت ظاہر ہوتی ہے لیکن کسی جگہ پر تربیت کے ذریعہ سے، کہیں وہ انذار کو ذریعہ ہدایت بناتا ہے تو کہیں انعام کو باعث ترقی بنا دیتا ہے۔غرض کسی کو ڈرا کر کسی کی ہمت بلند کر کے کسی کو خوف دلا کر کسی کو انعام اور عطیہ کے ساتھ 415