تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 397
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول بن جائے۔خطبہ جمعہ فرمود : 15 جنوری 1937ء اصل بات یہ ہے کہ یہ اعتراض محض حسد کا نتیجہ ہے اور اس کی وجہ ان کی یہ جلن ہے کہ خود انہوں نے اس کام کو پہلے کیوں شروع نہیں کیا؟ اب چونکہ وہ ان کاموں کو خود ہم سے پہلے شروع نہیں کر سکے اس لئے حسد میں آکر ہمارے کاموں کو بے دینی پر محمول کرنے لگ گئے ہیں لیکن پانچ دس سال نہیں گزریں گے کہ وہ خود یہ کام کرنے لگ جائیں گے اور اس وقت اس کا نام ایمانداری اور نہایت اعلیٰ درجہ کی اسلامی خدمت رکھیں گے اور اگر انہوں نے پانچ دس سال کے بعد کوئی ایسا کارخانہ جاری کر دیا جو ہمارے ہاں نہ ہوا تو پھر وہ ہمیشہ ہماری جماعت کے افراد پر طنز کرتے رہیں گے کہ دیکھا ہم کیسے منظم ہیں۔ہم نے وہ کارخانے جاری کر رکھے ہیں جو تمہارے ہاں جاری ہی نہیں۔پس یہ محض تُھو کھٹے والی بات ہے۔چونکہ اُنہوں نے آپ اس کام کو ابھی تک شروع نہیں کیا اس لئے یہ بات بُری ہو گئی مگر مومن اعتراضات سے نہیں ڈرا کرتا مومن کا کام یہ ہے کہ وہ بے کار نہ رہے اور جماعت کا کام یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بے کاری اپنے اندر سے دور کرنے کی کوشش کرے۔ہم اپنے اندر سے جتنی بے کاری اس وقت معذوری کی وجہ سے دور نہیں کر سکتے اس کے متعلق ہم خدا تعالیٰ کے حضور بری ہیں لیکن اگر ہم بے کاری کو دور کر سکتے ہوں اور پھر اپنی غفلت کی وجہ سے بے کاری دور نہ کرسکیں تو یقینا ہم خدا تعالیٰ کے حضور مجرم ہوں گے کیونکہ مومن کا بے کار رہنا خدا تعالیٰ کبھی پسند نہیں کرتا لیکن چونکہ تمام لوگ صرف ایک ہی کام یعنی دین کی خدمت نہیں کر سکتے اس لئے ضروری ہے کہ ایک حصہ دُنیا کے کاموں پر لگا ہوا ہو۔قرآن کریم میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ تم سارے کے سارے دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر سکو اس لئے ہر جماعت میں سے کچھ لوگ ایسے ہونے چاہئیں جو کلی طور پر دین کی خدمت کے لئے وقف ہوں اور جو باقی رہ جائیں وہ اپنے کام کے ساتھ ساتھ لوگوں کو تبلیغ کرتے جائیں۔اگر کوئی ترکھان ہو تو وہ ترکھانے کے کام کے ساتھ تبلیغ بھی کرتا جائے، اگر لوہار ہو تو لوہارے کے کام کے ساتھ تبلیغ بھی کرتا جائے ، اگر درزی ہو تو درزی کے کام کے ساتھ ہی تبلیغ بھی کرتا رہے اور اگر موچی ہو تو موچی کے کام کے ساتھ ہی تبلیغ بھی کرتا رہے۔پس ساری جماعت کبھی بھی تبلیغ میں نہیں لگ سکتی اور اسلامی تعلیم یہی ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہونے چاہئیں جو کلی طور پر دین کے لئے وقف ہوں اور جو باقی ہوں وہ روپیہ کمائیں اور زائد وقت تبلیغ اسلام پر صرف کریں۔اگر خدا تعالیٰ ہمیں اس کام میں جو ہم نے شروع کیا ہے، کامیاب کر دے تو غریبوں اور 397