تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 390
خطبہ جمعہ فرمود : 15 جنوری 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ان کی کوششوں نے لوگوں کو اسلام سے منحرف کر دیا اس کے مد نظر اب ہمارے کارخانوں کے اجرا اور بقول ان کے دنیا میں مشغول ہو جانے پر ان کا اعتراض کرنا درست معلوم نہیں ہوتا بلکہ انہیں خوش ہونا چاہئے تھا کہ فکر دور ہو گیا اور اب اسلام پر ایک جماعت جو حملہ کر رہی تھی اس میں کمی آنے کی اُمید ہو گئی لیکن اگر حقیقت یہ نہیں بلکہ دل میں وہ یہی مانتے تھے کہ احمدی تبلیغ اسلام کرتے ہیں ، صرف ظاہر میں وہ لوگوں کو دھوکا دینے اور ہماری طرف سے دُنیا کو بدظن کرنے کے لئے کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ اسلام کے راستہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں تو پھر بھی ان کا یہ اعتراض ان کے قلتِ تدبر پر اور دین اسلام سے ناواقفیت پر دلالت کرتا ہے۔ان کا اعتراض یہ ہے کہ ان کارخانوں کے جاری کرنے کی وجہ سے قادیان کے لوگ بے دین ہو گئے ہیں، اسلام سے غافل ہو گئے ہیں اور اشاعت اسلام کا کام انہوں نے چھوڑ دیا ہے۔اس اعتراض پر میں جب بھی غور کرتا ہوں حیران ہوتا ہوں کہ کسی معقول انسان کی زبان پر یہ فقرہ کس طرح سکتا ہے؟ کیا کبھی بھی کوئی ایسی جماعت ہوئی ہے جس کے تمام افراد ہر قسم کے دنیوی کاموں سے الگ ہو کر صرف اشاعت اسلام میں لگے ہوئے ہوں؟ یا کوئی ایسا انتظام ہوا ہے جو دنیا کی اصلاح کے تمام کاموں سے جُدا ہو کر صرف تبلیغ میں لگا ہوا ہو؟ ہر واقف کار آدمی جانتا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی اپنی روٹی کمانے کے لئے کام کیا کرتے تھے اور خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں محنت سے روزی کمانے کی تلقین کرتے رہا کرتے تھے۔ان میں تاجر بھی تھے ، صناع بھی تھے ، پیشہ ور بھی تھے، اہل حرفہ بھی تھے ہر قسم کے لوگ تھے جو محنت کرتے تھے، مزدوری کرتے تھے اور اپنے پیٹ پالتے تھے اور اپنی آمد سے دین کی خدمت کرتے تھے اور خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف یہ کہ ان کے اس طرح دنیوی کاموں میں مشغول ہونے کو بُرا نہ مناتے تھے بلکہ اس طرح رزق حلال کمانے کو پسند فرماتے اور اس کی طرف انہیں رغبت دلاتے رہتے تھے۔پھر اسلامی نظام صرف لوگوں کو کلمہ ہی نہیں پڑھاتا تھا بلکہ دنیوی کام بھی سکھاتا تھا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے کفار قیدیوں میں سے بعض کے لئے آزادی کا فدیہ ہی یہ مقرر کیا تھا کہ مدینہ کے لڑکوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دیں۔یہ ظاہر بات ہے کہ مکہ کے کفار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تو کہا نہیں ہوگا کہ اسلام کے معارف لوگوں کو پڑھاؤ۔وہ کم بخت جو خود اسلام نہ جانتے تھے مدینہ کے لوگوں کو اسلام کیا سکھاتے ؟ اُن سے آخر یہی مطالبہ ہو گا کہ دنیوی علوم اور ظاہری لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔پس نظام اسلامی بھی اس قسم کے کاموں سے بے رغبتی نہیں برت سکا۔ہم لوگ جن کی بے رغبتی کا ماتم کرنے کے لئے مولوی محمد علی صاحب کھڑے ہوئے ہیں اس سے پہلے 390