تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 389

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 15 جنوری 1937ء انہیں سنائے تا کہ اگر کسی نے اپنی بیماری کی وجہ سے نہ کہ معذوری کی وجہ سے چندہ تحریک جدید میں حصہ نہیں لیا تو وہ اب حصہ لے لے تا اس کی بیماری میں کمی آجائے اور اس کا بدن تندرست ہو جائے کیونکہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں اور سب ایمانی جسم کا ایک حصہ ہیں۔اس کے بعد میں تحریک جدید کے ایک اور پہلو کے متعلق جس پر مولوی محمد علی صاحب نے گزشتہ ایام میں بعض اعتراضات کئے ہیں کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ پہلو تحریک جدید کے کارخانہ جات کا ہے جو بے کاروں اور یتیموں کو کام پر لگانے کے متعلق جاری کئے گئے ہیں۔ان کارخانوں کے اجرا اور یتیموں اور غریبوں کو کام پر لگانے سے مولوی محمد علی صاحب کی رگ حمیت اتنے جوش میں آئی ہے کہ ان کو قتیموں اور غریبوں کو کام سکھانا بے دینی نظر آنے لگ گئی ہے اور وہ کہتے ہیں اب قادیان میں دین کون سا باقی رہ گیا ہے؟ ان کے نزدیک جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم یتیموں اور بے کاروں کو کام سکھائیں گے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ عام دنیا داروں کی طرح لوہار، ترکھان اور موچی بن جائیں گے اس لئے وہ کہتے ہیں جب لوگ لوہار، ترکھان اور موچی بن جائیں گے تو دین کی اشاعت کون کرے گا؟ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھانے اور لوگوں کو حلقہ بگوش اسلام بنانے والا کون رہے گا ؟ میں سمجھتا ہوں اول تو یہ اعتراض اس لحاظ سے غلط ہے کہ ان کے نزدیک ہم اپنی تبلیغ اور جد و جہد سے لوگوں کو محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے دور کر رہے ہیں اور اصل اسلام سے لوگوں کو منحرف کر رہے ہیں۔پس اگر وہ لوگ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے لوگوں کو پھیرنے والے ہوں دنیوی کاموں میں مشغول ہو جائیں تو اس میں انہی کا فائدہ ہے اور اس پر انہیں تکلیف محسوس ہونے کی بجائے خوشی منانی چاہئے تھی کیونکہ اگر یہ میچ ہے کہ ہماری تبلیغی کوششیں دین اسلام پر حملہ ہیں۔ختم نبوت کی تشریح جو ہماری طرف سے پیش کی جاتی ہے اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہے اور ہمارا لوگوں کو اپنے اندر شامل کرنا انہیں اصل اسلام سے منحرف کرنا ہے تو پھر تو انہیں خوش ہونا چاہئے کہ اب اسلام کی ترقی کا ان کے لئے راستہ کھل گیا اور ہمارے دنیا میں مشغول ہو جانے کی وجہ سے اسلام پر جو حملے ہوا کرتے تھے اور ختم نبوت کو مٹانے کی جو کوششیں پہلے کی جاتی تھیں وہ اب نہیں ہوا کریں گی اور اب بجائے تبلیغ کے ہم ترکھانے اور لو ہارے کے کام میں مشغول رہا کریں گے۔پس ہمارے ان کارخانوں کے اجرا اور تیموں اور بے کاروں کے کام پر لگ جانے سے اول تو انہیں خوش ہونا چاہئے تھا کہ اب ان کا راستہ صاف ہو گیا لیکن تعجب یہ ہے کہ اس پر انہیں تکلیف ہوئی ! پس اول تو وہ ہمارے متعلق جو پرانے زمانہ میں یہ کہا کرتے تھے کہ اُنہوں نے دینِ اسلام میں رخنہ ڈال دیا اور 389