تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 381
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم جنوری 1937ء کے صحابہ کے لئے ضروری تھا۔صرف فرق ذریعے کا ہے وہ لوہے کی تلوار سے یہ کام کرتے ہیں اور ہمیں دلائل کی تلوار سے یہ کام کرنا ہوگا۔پس آرام سے مت بیٹھو کہ تمہاری منزل بہت دور ہے اور تمہارا کام بہت مشکل ہے اور تمہاری ذمہ داریاں بہت بھاری ہیں۔تم ایک خطر ناک صورت حالات میں سے گزر رہے ہو کہ باوجود تمہاری کمزوری کے خدا تعالیٰ نے تم پر وہ بوجھ لادا ہے کہ جس کے اُٹھانے سے زمین اور آسمان بھی کانپتے ہیں۔دنیا کی حکومتیں صرف ایک ایک قوم سے لڑائی کے موقع پر خائف ہو جاتی ہیں اور انجام سے ڈرتی ہیں لیکن آپ لوگوں کو خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ قرآن کی تلوار لے کر دنیا کی تمام حکومتوں پر ایک ہی وقت میں حملہ کر دیں اور یا اس میدان میں جان دے دیں یا اُن ملکوں کو خدا اور اس کے رسول کے لئے فتح کریں۔پس چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف مت دیکھو اور اپنے مقصود کو اپنی نظروں کے سامنے رکھو اور ہر احمدی خواہ کسی شعبہ زندگی میں اپنے آپ کو مشغول پاتا ہو اس کو اپنی کوششوں اور سعیوں کا مرجع صرف ایک ہی نقطہ رکھنا چاہئے کہ اس نے دنیا کو اسلام کے لئے فتح کرنا ہے۔ہمارا ایک تاجر اپنی تجارت کے تمام کاموں میں اسی امر کو مد نظر رکھے اور ایک صناع بھی اپنے تمام کاموں میں اسی امر کو مد نظر ر کھے اور ایک معلم بھی اپنی تعلیم میں اسی امر کو مد نظر رکھے اور ایک قاضی بھی اپنے فیصلوں میں اسی امر کو مد نظر رکھے۔غرض جس جس کام میں کوئی احمدی مشغول ہو وہ یہ یادر کھے کہ اس کے کام کا آخری نتیجہ اسی صورت میں ظاہر ہو کہ دنیا خدا اور اس کے رسول کے لئے فتح کر لی جائے۔اگر ہمارے تمام دوست اس مقصود کو اپنے سامنے رکھیں تو ان کو ذہنی طور پر اتنی بلندی حاصل ہو کہ جو دنیا میں کسی قوم کو حاصل نہیں ہوئی۔آج تو ان کی مثال ایک کنویں کے مینڈک کی سی ہے کہ ایک نہایت چھوٹی سی منزل مقصود ان کے سامنے ہے اور وہ اتنا بھی تو نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ نے کیا کام ان کے سپرد کیا ہے۔حالانکہ کام کرنے سے پہلے خود کام کی مقدار کا جاننا ضروری ہوتا ہے جیسا کہ میں شروع میں کہہ چکا ہوں ان میں سے بعض چندہ دیتے اور خوش ہو جاتے ہیں اور بعض نمازیں پڑھتے اور خوش ہو جاتے ہیں اور بعض روزے رکھتے اور خوش ہو جاتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ یہ تعلیمیں تو اسلامی تعلیم کے سمندر کا ایک قطرہ ہیں۔پس چاہئے کہ ہمارے دوست سلسلہ کے قیام کی اہمیت کو سمجھیں اور اسلام کی وسیع تعلیم کو اپنے سامنے رکھیں اور دنیا میں جس قدر خرابیاں پیدا ہور رہی ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کریں اور صرف ایک محدود خیال کے اندر اپنے آپ کو مقید نہ کریں۔قرآن شریف میں بھی آتا ہے اور حدیث میں بھی آتا ہے کہ مومن کا ادنی بدلہ آسمان اور زمین ہوں گے۔اب سوچو تو سہی کہ 381