تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 347

تحریک جدید - ایک ابھی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 18 دسمبر 1936ء پڑی ہوئی ہیں اس لئے بعض افراد کی طبیعت کسی نہ کسی آڑ میں اس مطالبہ سے پہلوتہی کا جواز تلاش کرنا چاہتی ہے، کہ میں تحریک جدید پر تو عمل کرتا ہوں لیکن اس طرح کہ ہم ایک جگہ چار آدمی ہیں ہم چاروں ایک ایک کھانا پکوالیتے ہیں اور پھر سب مل کر کھا لیتے ہیں اس میں کوئی حرج تو نہیں؟ میں نے کہا کہ چار کھانے تو آج کل ایک وقت اُمرا بھی نہیں کھایا کرتے آپ کس طرح چار کھانے کھا کر سمجھتے ہیں کہ آپ نے تحریک جدید کے اس مطالبہ پر عمل کر لیا؟ اب دیکھو انہوں نے اپنی طرف سے تحریک جدید پر بھی عمل کیا اور چار کھانے بھی کھالئے۔پھر میں نے انہیں کہا میں صرف یہی نہیں چاہتا کہ ایک کھانا پکانے کی وجہ سے لوگوں کو اخراجات میں کفایت رہے بلکہ میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ زبان کے جسکے کی عادت نہ پڑے اب چار کھانے کھانے سے چسکا بڑھ سکتا ہے کم نہیں ہوسکتا؟ اگر وہ گھر میں کھانا پکاتے تو زیادہ سے زیادہ دو پکاتے لیکن مل کر کھانے کی وجہ سے چار کھالئے گئے اور یہ بھی سمجھ لیا گیا کہ تحریک جدید پر عمل ہو رہا ہے۔اسی طرح کئی لوگ اس رنگ میں ایک سے زیادہ کھانا کھا لیتے ہیں کہ کہتے ہیں تحفہ آ گیا ہے بے شک کبھی کبھار کا تحفہ تحفہ ہے اور اس کے استعمال میں خصوصا تحفہ بھیجنے والے کا دل رکھنے کے لئے حرج نہیں بلکہ بعض صورتوں میں ثواب ہے لیکن اگر دو ہمسائے آپس میں ایک دوسرے کے گھر کھانا بھجوانے کی عادت ڈال لیں تو ایسے کھانے کا استعمال یقینا تحریک جدید کا غلط استعمال ہوگا۔غرض تحفوں میں احتیاط کی ضرروت ہے اگر اس بارہ میں تحریک کی حقیقت کے مطابق عمل نہ کیا جائے تو شاید ہمارے گھر میں تو اس تحریک پر کبھی عمل نہ ہو سکے کیونکہ ہمارا تعلق اور رشتہ روحانی خدا تعالی کے فضل سے بڑا وسیع ہے اور کوئی نہ کوئی تحفہ ہمارے گھروں میں روز آ جاتا ہے اس لئے ہمیں تو تحفہ کے استعمال میں بھی احتیاط کرنی پڑتی ہے۔گزشتہ دو سال میں چار پانچ مرتبہ سے زیادہ ایسا اتفاق نہیں ہوا جہاں تحفہ آیا اور میں نے سمجھا کہ اس موقع پر دل رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے استعمال کر لیا جائے ورنہ عام طور پر جب کوئی تحفہ بھیج دیتا ہے تو یا تو میں اُسی کو استعمال کرتا ہوں گھر کا کھانا نہیں کھاتا یا پھر گھر کا کھانا کھاتا ہوں اور اسے خود استعمال نہیں کرتا کیونکہ میں سمجھتا ہوں بھیجنے والے نے بھیج دیا اب اسے کیا پتہ میں نے وہ چیز کھائی ہے یا نہیں کھائی ؟ اسے بہر حال ثواب ہو گیا۔تو تحفوں میں بھی انسان احتیاط کر سکتا ہے اور تحفہ کو بھی وہیں کھانے کی ضرورت ہوتی ہے جہاں ایسا نہ کرنے سے دوسرے کی دل شکنی کا خوف ہو۔اسی طرح ایک کھانے کے استعمال میں بعض اور استثنائی صورتیں ہو سکتی ہیں۔مثلا کوئی غیر احمدی دعوت کرتا ہے یا غیر احمدی کی دعوت کی جاتی ہے تو ایسی حالت میں اگر ایک ہی کھانا کھایا جائے تو وہ سمجھتا ہے ہتکہ 347