تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 346
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 18 دسمبر 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول والے اور غر با پر خرچ کرنے والے تھے اس وقت تک مسلمانوں میں غربت کا وہ زور نہ تھا جو آج کل ہے لیکن جب کمانے والے نہ رہے یا ایسے کمانے والے پیدا ہو گئے جنہوں نے سب رو پیدا اپنے ہاتھوں میں جمع کر لیا اور سوائے اپنی ذات اور ضروریات کے اور جگہ خرچ نہ کیا تو مسلمانوں پر تباہی آگئی چنانچہ آج کل مسلمانوں کی تباہی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اول وہ کماتے نہیں۔جہاں دیکھو مسلمان بے کار ہی بے کا ر دکھائی دیتے ہیں اور اگر انہیں کوئی کام کرنے کو کہا جائے تو اس میں وہ اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں وہ خیال کرتے ہیں ہمارا باپ ایسا تھا پس جب تک ہمیں باپ جیسا عہدہ نہ ملے گا ہم کام نہیں کریں گے۔اسی طرح زمیندار ہیں وہ نوکریاں نہیں کریں گے یا کوئی اور پیشہ اپنی روزی کمانے کے لئے اختیار نہیں کریں گے اور جب انہیں کہا جائے کہ کیوں کوئی کام نہیں کرتے ؟ تو کہہ دیں گے ہم زمینیدار ہیں، ہم کوئی اور پیشہ کس طرح اختیار کر سکتے ہیں؟ پس وہ کوئی پیشہ اختیار نہیں کریں گے، کوئی فن نہیں سیکھیں گے ، کوئی اور ذریعہ اپنی روزی کمانے کے لیے اختیار نہیں کریں گے ، بھوکے مریں گے، اپنی صحت خراب کر لیں گے، اپنی بیوی اور بچوں کی صحت تباہ کر لیں گے لیکن کسی کام کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔زمیندار ماں اپنے بچہ کو بھوکے رہنے کی وجہ سے خون پلاتی جائے گی مگر وہ اس گھمنڈ میں رہیں گے کہ ہمارا باپ زمیندار تھا ہم موچی کا کام کس طرح کر سکتے ہیں؟ ہم نجاری اور معماری کا کام کس طرح کر سکتے ہیں؟ ہم جولا ہوں کا کام کس طرح کر سکتے ہیں؟ پس مسلمانوں کی تباہی کا ایک بہت بڑا سبب یہ ہے کہ وہ کام نہیں کرتے اور دوسرا سبب یہ ہے کہ ان میں سے جو کام کرتے ہیں وہ سارا رو پید اپنے گھروں میں رکھ لیتے ہیں غربا پر اسے خرچ نہیں کرتے حالانکہ اسلام چاہتا ہے کہ لوگ کمائی کریں اور اس میں سے کچھ اپنی ذات پر خرچ کریں اور کچھ دوسرے لوگوں پر صرف کریں۔(الضحی :12) وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ کا مطلب ہی یہ ہے کہ جو نعمت تمہیں ملے اسے دنیا میں پھیلاؤ۔تحدیث دو ہی طرح ہو سکتی ہے: ایک یہ کہ کچھ اپنی ذات پر اس روپیہ کو خرچ کیا جائے اس سے بھی لوگوں کو پتہ لگ سکتا ہے کہ اسے نعمت ملی ہے اور کچھ غریبوں میں تقسیم کرے اس سے بھی لوگوں کو پتہ لگ سکتا ہے کہ اس کے پاس دولت ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہی گر بتایا ہے اور یہ گر بغیر سادہ زندگی اختیار کئے کام نہیں آسکتا۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ باوجود بار بار توجہ دلانے کے ہماری جماعت کا ایک حصہ ابھی ایسا ہے جس نے اس کی قیمت کو نہیں سمجھا۔کئی کئی طریق پر دوست اس سے پہلوتہی کر لیتے ہیں۔گزشتہ سفر کے موقع پر ہی ایک دوست نے پوچھا، وہ نہایت مخلص احمدی ہیں مگر چونکہ پرانی عادتیں زیادہ کھانا کھانے کی 346