تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 345

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول چنانچہ وہ فرماتا ہے: اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 18 دسمبر 1936ء وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلى مَا مَتَّعْنَابِةٍ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ زَهْرَةً الْحَيَوةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ (132) کہ اگر کسی کو اچھی چیزیں ملیں تو تم ان کی طرف جھانکا نہ کرو اور نہ اپنے دل کو اس طرح میلا کیا کرو۔پس اگر دکھانے والے دکھاتے اور دیکھنے والے انکار کر دیتے اور کہہ دیتے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ:۔وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلى مَا مَتَّعْنَابِةٍ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ (القصص:25) (132) کہ اگر کوئی دولت مند ہوں اور وہ اپنی چیزیں دکھا کر تمہارا دل دکھانا چاہیں تو وہ چیزیں دیکھانہ کرو اور اپنے خدا کی طرف نظر رکھا کرو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ:۔رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ کہ اے میرے رب میں محتاج ہوں مگر میں محتاج ہو کر بندوں کی طرف نہیں دیکھنا چاہتا بلکہ تیری طرف دیکھتا ہوں۔پس تیری طرف سے جو آئے اسے میں قبول کرنے کے لئے تیار ہوں۔تو نہ انہیں تکلیف ہوتی ہے اور نہ وہ اندر ہی اندر کڑھتے۔پس ان رسوم کے نتیجہ میں کمزور طبائع پر برا اثر پڑتا ہے۔لیکن اگر ملک میں سادہ زندگی آجائے تو یقیناً بہت سی دولت بچ جائے گی جو غر با اور ملک کی ترقی کے کام آئے گی اور اس طرح آہستہ آہستہ تمام ملک یا جماعت ایسے مقام پر آجائے گی کہ غریب اور امیر کا فرق بہت کم ہو جائے گا۔یوں شریعت نے دولت کمانے سے منع نہیں کیا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف جو عشرہ مبشرہ میں سے تھے وہ جب فوت ہوئے تو انہوں نے اڑھائی کروڑ روپیہ کی جائیداد چھوڑی۔اس زمانہ میں تو روپیہ کی قیمت بہت تھی لیکن آج بھی جبکہ روپیہ کی قیمت گری ہوئی ہے مسلمانوں میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس قدر جائیدا اور کھتے ہوں لیکن خود ان کی اتنی سادہ زندگی تھی کہ ان کا روزانہ کا خرچ چار آنے ہوا کرتا تھا اور وہ اپنی آمد کا اکثر حصہ غربا میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔یہ زندگی تھی جو اسلامی زندگی تھی۔اسلام نے انہیں کمانے سے منع نہیں کیا تھا انہوں نے کمایا اور کما کر بتا دیا کہ یوں کمایا کرتے ہیں لیکن دوسری طرف چونکہ اسلام کا یہ بھی حکم تھا کہ اپنی زندگی کو ایسا پر تکلف نہ بناؤ کہ جو کچھ کما و وہ سب اپنی ذات پر خرچ کر دو اور غربا کے لئے کچھ نہ رہنے دو اس لئے وہ باوجود دولتمند ہونے کے غریب رہے اور یہی چیز ہے جس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ فلاں شخص قربانی کر رہا ہے۔جب تک مسلمانوں میں ایسے لوگ رہے جو کمانے 345