تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 344

اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 18 دسمبر 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول وسعت پیدا ہو جاتی ہے اور اسلام جس برادری کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے وہ قائم ہو جاتی ہے۔یہی حال لباس کا ہے۔لباس کی نظافت اور صفائی اور چیز ہے لیکن اگر کچھ لوگ اپنے گھروں کو کپڑوں سے بھر لیں اور روپیہ ایسی چیزوں پر خرچ کرنا شروع کر دیں جو ضروری نہیں مثلاً گوٹے کناریاں ہیں، فیتے ہیں، ٹھتے ہیں تو ان چیزوں کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کی دولت ایسی جگہ خرچ ہوتی ہے جس جگہ خرچ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ہماری شریعت نے اسی لئے روپیہ جمع کرنے سے منع کیا ہے اور جمع شدہ روپیہ پر زکوۃ لگا دی ہے اور زکوۃ لگا کر کہہ دیا ہے کہ تم بے شک روپیہ جمع کرو مگر ہم چالیس پچاس سال کے اندر اندر سے ختم کر دیں گے۔تو شریعت نے ہم کو روپیہ جمع کرنے سے اسی لئے منع کیا ہے کہ جو روپیہ جمع ہوتا ہے وہ لوگوں کے کام نہیں آسکتا اور دنیا کی تجارتوں کو نقصان اور کارخانوں کو ضعف پہنچتا ہے۔تو نہ شریعت نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ روپیہ ضائع کرو اور نہ اس بات کی اجازت دی ہے کہ اس طرح سنبھال کر رکھ لیا جائے کہ وہ لوگوں کے کام نہ آئے۔ان دونوں باتوں پر غور کرنے سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ یہی کہ سادہ زندگی بسر کرو اور روپیہ اس طرح خرچ کرو کہ لوگوں کو فائدہ پہنچے۔مثلاً تجارتیں کرو کیونکہ تجارت میں ہزاروں لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے ، بعض کو نوکریوں کے ذریعہ فائدہ پہنچ جاتا ہے ، بعض کو دلالی کے ذریعہ سے، بعض کو حرفت کے ذریعہ سے۔ہاں اسلام نے یہ بھی کہہ دیا کہ فضول باتیں نہ کرو کیونکہ اس سے غربا کے دلوں میں حرص پیدا ہوتی ہے اور ان کے قلوب کو تکلیف پہنچتی ہے۔مثلاً شادیوں کے موقع پر بڑی تباہی اس وجہ سے آتی ہے کہ لوگوں میں یہ رواج ہے کہ لڑکے والے بری دکھاتے ہیں اور لڑکی والے جہیز دکھاتے میں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غریب لڑکیاں جو ان چیزوں کو دیکھتی ہیں وہ یا تو دل ہی دل میں کڑہتی رہتی ہیں یا اگر بے وقوف ہوں تو ماں کو آکر چمٹ جاتی ہیں کہ ہمارے لئے بھی ایسی چیزیں تیار کی جائیں اسی طرح مردوں میں سے کئی جب اس قسم کے نظارے دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ جب ہماری شادی ہوگی تو ہم بھی ایسا ہی کریں گے حالانکہ اول تو امارت کے یہ معنی ہی نہیں کہ روپیہ ضائع کیا جائے۔ہاں چونکہ شادیاں خوشی کا موقع ہوتی ہیں اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کی بھی تاکید کی ہے کہ ایسے موقع پر کچھ خرچ کیا جائے کیونکہ ایسے موقع پر خرچ کرنا گناہ نہیں بلکہ لڑکی کا دل رکھنا مرد کے لئے نہایت ضروری ہے لیکن اس کے لئے وہ طریق اختیار نہیں کرنا چاہئے جو بداثر ڈالے اور غربا کیلئے تکلیف کا موجب بنے۔اگر مسلمان قرآن کریم کا علم رکھتے تو وہ سمجھتے کہ قرآن کریم نے ایسے دکھاوے سے منع کیا ہوا ہے۔344