تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 329

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 19 ستمبر 1936ء امرالہی قربانیوں سے ہی حاصل ہوتا ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 19 ستمبر 1936ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ (البقرة:250) جب اللہ تعالیٰ کا امر حاصل ہو جائے جو قربانیوں سے ہی حاصل ہوتا ہے تو پھر ترقی کے رستہ میں کمی تعداد روک نہیں بن سکتی اس لئے میں نے تحریک جدید میں ہر قسم کی قربانیاں رکھی ہیں مگر مجھے افسوس ہے کہ کئی لوگ کھانے پینے اور لباس کے معاملہ میں اس کی پوری طرح پابندی نہیں کرتے ، زیورات بنوانے کے معاملہ میں بعض عورتیں اُس پر عمل کرنے میں کوتاہی کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جماعت ابھی تک ان قربانیوں کو پیش نہیں کر سکی جن کی ضرورت ہے کیونکہ جب انسان کے پاس ہے ہی کچھ نہیں تو وہ قربانی کیا کرے گا؟ اگر تمہارے جسم کے اندر روح موجود ہے تو تم جان کی قربانی پیش کر سکتے ہو مگر جب روح ہی نہیں تو جان کی قربانی کے کیا معنی؟ اسی طرح جو شخص اقتصاد کی مدد سے کچھ رقم پس انداز نہیں کرتا وہ مالی قربانی کس طرح کر سکے گا؟ اور جو شخص جلد جلد کام کرنے کا عادی نہیں وہ وقت کی قربانی کس طرح کر سکتا ہے؟ وقت کی قربانی وہی کر سکتا ہے جو جلد کام کرنے کا عادی ہو ، جان کی وہی قربانی کر سکتا ہے جس کے پاس جان ہو اور مالی قربانی وہی کر سکتا ہے جس نے محنت سے کام کیا ہو اور پھر اقتصاد سے کچھ بچایا بھی ہو۔پس جب تک تحریک جدید کے سارے حصوں پر عمل نہیں ہوتا اور ہر ایک مطالبہ کو مد نظر نہیں رکھا جاتا اس وقت تک ہم ترقی کے میدان میں نہیں اتر سکتے۔یاد رکھو! کہ منہ کی قربانی کسی کام کی نہیں قربانی وہی ہے جو حقیقی معنوں میں ہو۔منہ کی قربانی کی تو وہی مثال ہے سو گز واروں ایک گز نہ پھاڑوں اور اس سے اسلام کو یا دین کو قطعاً کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔“ مطبوع الفضل 26 ستمبر 1936ء) 329