تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 324

خطبہ جمعہ فرموده 11 ستمبر 1936ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول یوں ہے اور فلاں ہوں۔پس ان کی باتوں سے گھبرانا نہیں چاہئے اور نہ ان کی پروا کر نی چاہئے کیونکہ کوئی معقول وجہ ایسی نہیں ہوتی جس کی بنا پر سمجھا جا سکے کہ واقعہ میں ہمارا فلاں بھائی ایسا ہے۔وہ صرف اپنا پہلو بچانے کے لئے اعتراض کرتا ہے اور اس کی غرض محض اپنے آپ سے اعتراض کو دور کرنا ہوتا ہے اور یہی علامت منافق کی ہے ورنہ کیا یہ جواب دینے سے کہ چونکہ فلاں شخص نجاست پر منہ مارتا ہے اس لئے میں بھی ایسا کرتا ہوں کوئی شخص بری الذمہ سمجھا سکتا ہے؟ مثل مشہور ہے کہ کسی شخص نے دوسرے سے برتن مانگا مگر دیر تک واپس نہ کیا ایک دن یہ اس کے گھر گیا تو دیکھا کہ وہ اس برتن میں ساگ کھا رہا ہے۔یہ کہنے لگا چودھری یہ بات تو اچھی نہیں کہ تم نے میرا برتن لیا مگر اُسے واپس نہ کیا اور اب اس میں ساگ کھا رہے ہو میرا نام بھی تم بدل دینا اگر میں تمہارے برتن میں جا کر پاخانہ نہ کھاؤں۔ان منافقوں کا جواب اگر واقعات کے لحاظ سے درست ہو تب بھی اس کی حیثیت اس جواب سے زیادہ نہیں ہے۔بھلا یہ بھی کوئی جواب ہے کہ میں اگر جھوٹ بولتا ہوں تو فلاں بھی جھوٹ بولتا ہے، میں اگر فریب کرتا ہوں تو فلاں بھی فریب کرتا ہے، میں اگر غداری کرتا ہوں تو فلاں بھی غداری کرتا ہے، میں اگر بدکاری کرتا ہوں تو فلاں بھی بدکاری کرتا ہے۔گویا چونکہ دوسرا شخص بھی جھوٹ بولتا، فریب کرتا، غداری کرتا اور بدکاری کا مرتکب ہوتا ہے اس لئے جھوٹ جھوٹ نہ رہا، فریب قریب نہ رہا، غداری غداری نہ رہی اور بدکاری بدکاری نہ رہی۔غرض یہ یقینی بات ہے کہ جوں جوں جماعت قربانی میں ترقی کرے گی منافق چونکہ ساتھ نہیں چل سکے گا اس لئے وہ شور مچانے لگ جائے گا کہ یہ بھی ناجائز ہے اور وہ بھی ناجائز مگر جماعت کو ادھر اُدھر نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ سیدھا اپنے منزل مقصود کی طرف بڑھتے چلے جانا چاہئے۔1913ء میں میں نے رؤیا دیکھا کہ دو پہاڑ ہیں جن کی ایک چوٹی سے دوسری چوٹی کی طرف میں جانا چاہتا ہوں وہ پہاڑ ایسے ہی ہیں جیسے صفا اور مروہ لیکن صفا اور مروہ کے درمیان جو جگہ تھی وہ تو اب پاٹ گئی ہے مگر خواب میں جو دو پہاڑ میں نے دیکھے ان کے درمیان جگہ خالی تھی جب میں ایک چوٹی سے دوسری چوٹی کی طرف جانے لگا تو مجھے ایک فرشتہ ملا اور کہنے لگا جب تم دوسری چوٹی کی طرف جانے لگو گے تو راستہ میں تمہیں بہت سے شیطان اور جنات ڈرا ئیں گے اور تمہاری توجہ اپنی طرف پھرانا چاہیں گے مگر باوجود اس کے کہ وہ ہر رنگ میں تمہیں ڈرائیں تمہیں اپنی طرف متوجہ کرنا چاہیں تم اُن کی طرف نہ دیکھنا اور یہی کہتے جانا کہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ “ ، ”خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ، اس کے بعد میں جب چلا تو راستے میں میں نے دیکھا کہ وسیع جنگل ہے جس میں عجیب عجیب شکلیں نکل نکل کر مجھے ڈرانا او 324