تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 320

خطبہ جمعہ فرمود : 11 ستمبر 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول آرہی ہے اور اس عرصہ میں بیسیوں معاہدے عیسائیوں سے ہوئے مگر کیا تم ایک معاہدہ بھی ایسا دکھا سکتے ہو جو انہوں نے پورا کیا ہو جب ایک معاہدہ بھی تم ایسا نہیں دکھا سکتے جو انہوں نے پورا کیا ہو بلکہ ہر معاہدہ کو انہوں نے توڑا ہے تو اب تم کس طرح اُمید کر سکتے ہو کہ وہ اس معاہدہ کی تمہارے لئے نگہداشت کریں گے؟ اس کا یہ کہنا تھا کہ باقی سب اس کے پیچھے پڑ گئے کہ یہ پاگل ہے، دیوانہ ہے، یہ نہیں سمجھتا کہ مصلحت کیا چیز ہوتی ہے، اتنی عمدہ شرطیں جب وہ پیش کر رہے ہیں تو ہمیں ضرور مان لینی چاہئیں اگر یہ شراکہ ہم منظور نہیں کریں گے تو چونکہ ہم کمزور ہیں اس لئے وہ شہر فتح کر کے اندر داخل ہو جائیں گے اور ہم سب کو ماردیں گے۔جب انہوں نے مخالفت کی تو وہ جرنیل اس مجلس سے اٹھ کر چلا گیا اور اکیلا عیسائی فوج سے لڑا اور مارا گیا لوگوں نے سمجھا یہ ایک بے وقوف تھا جس نے اپنی بے وقوفی کی سزا پالی لیکن وہ بے وقوف نہیں تھا کیونکہ جب صلح ہوگئی اور مسلمانوں نے جہازوں میں عورتوں اور بچوں کو بھر دیا اور کتب خانوں کو بھی ساتھ لے لیا تو جس وقت وہ پین کو آخری الوداع کہہ رہے اور اپنے آنسوؤں کا ہدیہ اس کے سامنے پیش کر رہے تھے عیسائیوں نے یکدم حملہ کر کے ان کے جہازوں کو غرق کر دیا اور اس طرح وہ بزدل اور ذلیل ہو کر مرے لیکن دنیا اس جرنیل کو آج بھی یاد کرتی ہے جس نے بہادری سے اپنی جان دی اس کے مقابلہ میں ان ہزاروں جان دینے والوں پر رحم تو آتا ہے مگر ساتھ ہی دل کے گوشوں سے ان کے متعلق لعنت کی آواز بھی اٹھتی محسوس ہوتی ہے۔پس اکیلا مر جانا اور قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دینا ہر وقت ہو سکتا ہے لیکن امام کی غرض چونکہ یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک جماعت تیار کرے اس لئے قربانیوں کا وہ آہستہ آہستہ مطالبہ کرتا ہے۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اگر اسلام ایسی ہی قربانی چاہتا ہے جیسی آپ بیان کرتے ہیں تو کیوں اس وقت اس قربانی کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔انہیں معلوم ہو جانا چاہئے کہ بے شک اسلام انتہائی قربانی چاہتا ہے مگر اسلام یہ بھی چاہتا ہے کہ کمزوروں کو اُٹھایا جائے اور انہیں بھی دوسروں کے پہلو بہ پہلو ترقی دی جائے اگر وقت سے پہلے ہی انتہائی قربانی کا مطالبہ کر لیا جائے تو ہزاروں لوگ جو بعد میں مومن ثابت ہو سکتے ہیں منافق بن جائیں جیسے اسلام کہتا ہے کہ خدا اور رسول کے دشمن تباہ ہو جاتے ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ مخالفت کرتے ہیں وہ فور انتباہ نہیں ہوتے بلکہ انہیں ایک عرصہ تک ڈھیل دی جاتی ہے قرآن مجید میں ہی بار بار کفار کا یہ اعتراض دہرایا گیا ہے کہ جب ہم مخالفت کرتے ہیں تو ہم مارے کیوں نہیں جاتے؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہی جواب دیا ہے کہ ہم تمہیں ڈھیل دیتے ہیں شاید کسی وقت تم درست ہو جاؤ اور ہدایت پر آجاؤ۔یہی حال انبیا کی جماعتوں کا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ انہیں آہستہ آہستہ قربانیوں کی طرف لاتا ہے تا جو گرنے والے ہیں وہ کم ہو جائیں اور بیچنے والے زیادہ ہوں۔320