تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 318

خطبہ جمعہ فرموده 11 ستمبر 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول تعداد دشمنوں کے مقابلہ میں دسواں حصہ بھی نہ تھی۔یہی حال ہمارا ہے تینتیس کروڑ ہندوستان کے باشندے ہیں ان میں سے الا ماشاء اللہ شریف الطبع لوگوں کو مستی کرتے ہوئے بہت سے ہمارے جانی دشمن ہیں، بہت سے ایسے ہیں جنہیں سلسلہ کی چونکہ واقفیت نہیں ہوتی اس لئے مولوی انہیں ورغلا لیتے ہیں۔پس وہ جو ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ان کے مقابلہ میں ہماری تعداد ہے ہی کیا ؟ پھر تم منافق سے یہ کس طرح اُمید کر سکتے ہو اور تمہاری یہ امید کس طرح صحیح بھی جاسکتی ہے کہ وہ اتنے بڑے دشمنوں کا مقابلہ کرے گا ؟ جبکہ تم دیکھتے ہو کہ تم اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں سینکڑوں گنے کم ہو لیکن وہ تم سے ڈرتے ہیں اور تمہارے سامنے بات نہیں کر سکتے جو لوگ ہمارے جیسی قلیل اور بے کس جماعت سے ڈرتے اور خوف کھاتے ہیں وہ ہم سے مل کر کئی گنے طاقتور دشمنوں کا مقابلہ کس طرح کر سکتے ہیں؟ وہ تو صرف ایک ہی کام کر سکتے ہیں اور وہ یہ کہ تمہاری صفوں کو پراگندہ کریں، تمہاری چغل خوری اور عیب جوئی کریں اور تمہاری دشمنوں کے پاس خبر رسانی کریں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کا کام یہی بیان فرمایا ہے فرماتا ہے: منافق تمہارے ساتھ شامل ہو جائیں تو سوائے اس کے کہ تمہارے اندر تفرقہ پیدا کریں اور دشمنوں کے پاس خبر رسانی کریں اور کیا کر سکتے ہیں؟ پس میرا یقین ہے کہ جماعت کی ترقی ان مخلصین کے وجود پر ہے کہ جب جب اور جس جس وقت انہیں مرکز کی طرف سے آواز سنائی دے وہ اس پر لبیک کہتے جائیں اور میں سمجھتا ہوں جب تک جماعت کے خیالات اس بارہ میں متفق نہ ہوں جماعت کے لوگ میری مدد نہیں کر سکتے۔اگر اس خیال پر تم قائم نہیں ہو کہ تمہاری ترقی اخلاص کے ذریعہ ہے نفاق کے ذریعہ نہیں اور نہ تعداد کے ذریعہ تو تم لاکھوں نہیں کروڑوں نہیں اربوں روپیہ بھی میرے قدموں میں ڈال دو پھر بھی وہ میرے کام نہیں آسکتا کیونکہ وہ تو کل کا روپیہ نہیں بلکہ شرک کا روپیہ ہے اور شرک کا روپیہ کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا اس کے مقابلہ میں اُس شخص کا دیا ہوا ایک پیسہ بھی برکت کا موجب ہوسکتا ہے جو کہتا ہے کہ میں خدا کا ہوں اور خدا میرا ہے اور فتح صرف خدا دیتا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا دنیا میں کوئی چیز نہیں اور تمام اشیا محض سایہ ہیں جو خدا کے ارادہ سے ادھر اُدھر نظر آتی ہیں اور جب وہ ارادہ ہٹالے تو کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی۔بعض دوستوں نے جو سلسلہ کے کارکن ہیں میرے گزشتہ خطبہ سے متاثر ہو کر مجھے لکھا ہے کہ ہماری تنخواہوں میں سے اتنا اتنا حصہ کاٹ لیا جایا کرے۔میں ان دوستوں کے اخلاص کی تو قدر کرتا ہوں مگر انہیں توجہ دلاتا ہوں کہ : 318