تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 317
جدید - ایک الہی تحریک جلد اول إِنَّا هُهُنَا قُحِدُونَ خطبه جمعه فرموده 11 ستمبر 1936ء (المائدة: 25) بھاری گناہ اور عذاب کا موجب ہے بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص پوری وضاحت اور انکشاف کے بعد اپنے آپ کو اسلام کے لئے مفید بنانے کے لئے تیار نہیں تو وہ اپنے آپ کو سلسلہ سے آپ نکالتا ہے تم اسے نہیں نکالتے۔ایک کمزور اور ناطاقت جس میں چلنے کی طاقت نہیں اگر تم اسے دیکھو تو تمہارا کام ہے کہ اسے اٹھاؤ اور لے چلو۔ایک ناواقف اور جاہل جسے کوئی علم نہیں اگر وہ تمہارے پاس آتا ہے تو تمہارا کام ہے کہ اسے بتاؤ اور اپنے ساتھ شامل کرو مگر ایک واقف اور آگاہ شخص جو ٹانگیں رکھتے ہوئے بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: تمہارا فرض ہے کہ تم اسے سلام کر کے کہہ دو آج سے میں اور تم الگ۔ہمارا تم سے کوئی تعلق نہیں۔جب تمہارے نفس میں اس رنگ میں خدا پر تو کل قائم ہو گا تب تم دنیا میں کامیابی حاصل کر سکو گے اور جب تم اپنے آپ کو دیوانگی کے مقام پر کھڑا کر لیتے ہو تب تم منزل مقصود پر بھی کامیابی کے ساتھ پہنچ سکتے ہو۔یہ مت خیال کرو کہ تمہارے دائیں اور بائیں ایسے لوگ ہیں جو اندر سے ہو کر تمہاری مخالفت کرتے ہیں۔وہ منافق ہیں اور منافق کی مثال چوہے کی سی ہوتی ہے جس نے بلی کی میاؤں سنی اور وہ بھاگا۔مثل مشہور ہے کہ کچھ چوہے تھے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ بلی نے ہمیں سخت ستایا ہوا ہے آؤ ہم اسے مل کر پکڑیں۔آخر صلاح ٹھہری کہ والنٹیئر ز طلب کرو جو اپنی جانیں قربان کر دیں اور قوم کو اس مصیبت سے نجات دیں۔چنانچہ پچاس ساٹھ چوہے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا ہم اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کرتے ہیں کہ اگر بلی آئی تو ہم اس کا دایاں پاؤں پکڑ لیں گے، پچاس ساٹھ چوہوں نے کہا ہم اس کا بایاں پاؤں پکڑ لیں گے اسی طرح والنٹیئر زکھڑے ہوتے گئے اور انہوں نے بلی کا تمام جسم آپس میں تقسیم کر لیا اور کہا کہ ہم اسے پکڑ کر وہیں ماردیں گے جب سب حصے وہ آپس میں تقسیم کر چکے تو ایک بوڑھا چوہا کہنے لگا تم بلی کے پاؤں اور اس کے دیگر اعضا سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا اس کی میاؤں سے ڈرتے ہو اس لئے یہ بتاؤ کہ اس کی میاؤں کو کون پکڑے گا ؟ ادھر اس نے یہ کہا اور ادھر اتفاقاً ایک بلی نمودار ہوگئی اور اس نے کہا میاؤں! میاؤں کا سنا تھا کہ سارے چوہے بلوں میں گھس گئے یہی حال منافق کا ہوتا ہے وہ دعوے بہت کرتا ہے لیکن ہوتا سخت ڈرپوک ہے۔بھلا وہ منافق جو قلیل التعداد دوستوں کے سامنے کھل کر بات کرنے سے ڈرتا ہے وہ کثیر التعداد دشمنوں کا کہاں مقابلہ کر سکتا ہے؟ ابتدائی مومنوں کی تعداد تو کفار کے مقابلہ میں ہمیشہ قلیل ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی 317