تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 313
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 7 اگست 1936ء مقام ہوتا ہے اسی طرح سچا مومن چاہتا ہے کہ وہ دنیا میں جلد سے جلد شیطان سے لڑائی ختم کر کے اپنے مولی کے پاس پہنچے۔پس ایک بار پھر میں جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سستی اور غفلت کو چھوڑ دیں ورنہ اس بات کے لئے تیار رہیں کہ آج نہیں تو کل خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں ٹھوکر لگے گی اور ان پر ایسا ابتلا آئے گا کہ وہ ایمان سے بالکل محروم کر دئیے جائیں گے۔خدا تعالیٰ کو اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ زیدیا بکر اس کے سلسلہ میں داخل ہے یا نہیں۔اگر کوئی شخص اس کے دین میں نہیں رہتا اور خدا تعالیٰ دیکھتا ہے کہ وہ اس کے دین کو چھوڑ کر الگ ہو رہا ہے تو وہ کہتا ہے جاؤ میرے دین کا کام کرنے والے اور بہت سے موجود ہیں میں ان سے کام لے لوں گا بلکہ خدا تو خدا ایک مومن بھی یہ پسند نہیں کر سکتا کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کے دین پر احسان رکھے ، وہ پسند کرے گا کہ وہ اکیلا خدا تعالیٰ کی راہ میں لڑائی لڑے بجائے اس کے کہ اس کے پہلو میں کوئی ایسا شخص ہو جو خدمت کر کے احسان جتانے والا ہو۔پس جو سچے مومن ہیں وہ اس بات کی ذرہ بھر بھی پروا نہیں کر سکتے کہ کوئی ان کا ساتھ دیتا ہے یا نہیں اور جو سچے مومن نہیں وہ پھر ہیں جو قوم کے گلے میں پڑے ہوئے ہیں اور جن کی وجہ سے خطرہ ہے کہ بعض دوسرے لوگ بھی ڈوب جائیں۔پس جتنی جلدی یہ پتھر دور ہوجائیں اور جتنی جلدی ان سے نجات ملے اتنا ہی اچھا ہے۔ہاں چونکہ جن لوگوں سے تعلق اور محبت کو ان کے علیحدہ ہونے پر افسوس بھی آتا ہے اس لئے ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے کمزوروں پر رحم فرمائے، انہیں ایمان اور اخلاص عطا فرمائے اور ہمیں بھی وہ طاقت بخشے کہ نہ دنیا کی آفات اور مصیبتیں ہمیں ڈرا سکیں اور نہ حکومتیں اور بادشاہتیں ہمیں مرعوب کر سکیں صرف ایک ہی چیز ہو جو ہمارا مقصود ہو اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کی محبت ہمیں حاصل ہو اور اس کے قرب کا مقام ہمیں ملے۔خدا تعالیٰ کیلئے جان دینا ہمارے لئے سب سے بڑی نعمت ہو اور اس کی خوشنودی کے لئے مرنا ہماری سے بڑی راحت ( مطبوع الفضل 19 اگست 1936 ء ) 313