تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 308

خطبه جمعه فرموده 7 اگست 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد اول کرے اور جسے دس روپے ملتے ہیں وہ اپنے اخراجات کے لحاظ سے کمی کرے اور اس طرح جو روپیہ بچے وہ چندہ میں دے دیا جائے مگر معلوم ہوتا ہے چندہ دینے کا یہ گر جو میں نے بتایا تھا جماعت نے اُس پر عمل نہیں کیا۔میں نے شروع میں بتایا تھا کہ تم منہ سے کہتے ہو ہم اپنا سب کچھ اسلام کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار ہیں حالانکہ تمہارے پاس کچھ نہیں ہوتا اس صورت میں تمہارا دعویٰ کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟ تمہارا فرض ہے کہ پہلے مٹھی میں کچھ لو اور پھر دینے کا نام لواور مٹھی میں لینے کے معنے یہ ہیں کہ تم اپنی زندگیوں میں تغیر پیدا کرو۔کھانے میں، پینے میں، پہنے میں اور مکانات کی آرائش و زیبائش غرض ہر چیز میں فرق کرو اور اپنی حیثیت کے مطابق کرو۔میں یہ نہیں کہتا کہ ایک غریب شخص بھی اتنا ہی چندہ دے جتنا ایک امیر دیتا ہے بلکہ اگر وہ پانچ روپے دے سکتا ہے تو پانچ ہی دے مگر پانچ روپے دینا بھی ایک غریب شخص کے لئے تبھی ممکن ہے جب وہ اپنے اخراجات میں کمی کرے جیسا کہ ایک امیر کے لئے پانچ سوروپیہ چندہ دینا بھی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ وہ قربانی کر کے اخراجات کو کم نہیں کرتا۔ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ میں امرا سے کہوں کہ جو کچھ ان کے پاس ہے وہ لائیں اور اسلام کیلئے قربان کر دیں ابھی نسبت کے طور پر ان سے قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔مثلاً کہا جاتا ہے جو سو روپیہ لیتا ہے وہ دس روپے دے اور جو ہزار روپیہ کماتا ہے وہ ایک سوروپے دے لیکن جب وہ وقت آیا کہ کہا گیا جو کچھ پاس ہے سب اسلام کے لئے حاضر کر دو اس وقت شاید اور زیادہ لوگوں کا امتحان ہو جائے مگر اس امتحان کے آنے تک ضروری ہے کہ جنہوں نے اپنے آپ کو تحریک جدید کے ادنیٰ امتحان میں شامل کیا ہوا ہے وہ اس میں کامیاب ہونے کی کوشش کریں۔مجھے تحریک جدید کے مالی شعبہ اور امانت فنڈ دونوں کی رپورٹوں سے معلوم ہوا ہے کہ ان دونوں شعبوں کے چندوں میں کمی آرہی ہے اور یک سالہ اور دو سالہ مومن کمزوری دکھا رہے ہیں مگر مجھے اس کی کوئی گھبراہٹ نہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ایسے لوگ گر جائیں اور ہمارا ساتھ چھوڑ دیں اور صرف ایسی ہی مخلص جماعت ساتھ رہ جائے جو پورے طور پر اطاعت کرنے اور اپنی ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہو۔میں قادیان کے لوگوں کو خصوصاً توجہ دلاتا ہوں کہ میرا ہر گز یہ ارادہ نہیں کہ اگر چندہ میں کمی ہو تو ان کاموں کو جن کو شروع کیا جا چکا ہے بند کر دیا جائے میں پہلے بھی اشارۃ بیان کر چکا ہوں کہ روپیہ کی کمی کی وجہ سے کام ہرگز بند نہیں کئے جا سکتے۔اگر روپیہ کی کمی ہوئی تو کارکنوں کی تنخواہیں دس فیصدی کم کر دی جائیں گی اور اگر دس فیصدی کمی کر کے بھی گزارہ نہ ہوا تو ان کی تنخواہوں میں میں فیصدی کمی کر دی جائے گی اور اگر ہمیں فیصدی کمی بھی ضروریات کو پورا نہ کر سکی تو میں فی صدی کمی کر دی جائے گی اور اگر تمہیں فیصدی کمی 308