تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 296
خطبه جمعه فرموده 7 اگست 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول نے ڈاکٹر صاحب سے مشورہ کیا تھا اور انہوں نے یہ کہا تھا کہ یہی تار چاہئے کہ مصافحہ نہیں ہونا چاہئے اس لئے ان کے مشورہ کے مطابق میں نے یہ تار دے دی تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ محض نمائش کی خاطر اور صرف یہ دکھانے کیلئے کہ جب قادیان میں امام جماعت احمدیہ آتا ہے تو لوگ استقبال کے لئے جمع ہو جاتے ہیں میری حکم عدولی کرتے ہوئے اس قسم کا تار دے دیا گیا۔میں دُنیا کی کسی لغت کے لحاظ سے نہیں سمجھ سکتا کہ جب وضاحتنا یہ ہدایت دے دی گئی ہو کہ لوگ سٹیشن پر نہ آئیں کیونکہ سٹیشن پر ان کے آجانے کے بعد اُن سے مصافحہ نہ کرنا مجھے بہت معیوب معلوم ہوتا ہے اور یہ بات مجھے بری لگتی ہے کہ لوگ جمع ہو جائیں اور میں ان سے مصافحہ نہ کروں۔میری ہدایت کو ان الفاظ میں ادا کیا جائے کہ لوگ مصافحہ نہ کریں۔پرائیویٹ سیکریٹری صاحب نے یہ عذر بھی کیا کہ میں نے اور ڈاکٹر صاحب نے یہ سمجھا تھا کہ اگر یہ تار دی کہ لوگ نہ آئیں تو پہرہ کا انتظام بھی نہ ہو گا۔حالانکہ تار میں آسانی سے لکھا جا سکتا تھا کہ سوائے منتظمین کے اور کوئی نہ آئے لیکن میرے نزدیک اپنی ذات میں بھی یہ عذر فضول ہے اس لئے کہ جو عملہ قادیان سے باہر پہرہ کا انتظام کر سکتا ہے، ریل میں پہرہ کا انتظام کر سکتا ہے وہ قادیان میں کیوں نہیں کر سکتا؟ کیا قادیان کے شیشن پر باہر کی نسبت زیادہ خطرات ہوتے ہیں؟ اور سٹیشن کے باہر تو موٹر میں ہی جانا تھا۔غرض یہ عذرات بالکل نادرست اور باطل تھے اور اسی ہندوستانی عادت کے ماتحت تھے کہ سوگز واروں گز بھر نہ پھاڑوں، جان قربان کرنے کے دعوے زور شور سے کئے جائیں اور اطاعت بالکل نہ کی جائے اور میں مجبور ہوں کہ سمجھوں کہ محض نمائش اور جھوٹے مظاہرہ کی خاطر میری ہدایت کی دیدہ و دانستہ اور جان بوجھ کر نا فرمانی کی گئی ہے اور مجھے افسوس ہے کہ اس غلطی کا خمیازہ قادیان کے دوستوں کو بھی بھگتنا پڑا اور جو مجھے تکلیف ہوئی ہے وہ بھی کچھ کم نہیں۔میں نے صراحتاً کہ دیا تھا کہ وہ لوگ جو دوستوں کو جمع کر کے لے تو آتے ہیں مگر پھر مصافحہ کرنے سے انہیں روکتے ہیں ان کارو کنا مجھ پر بہت ہی گراں گزرتا ہے جب لوگ جمع ہو جائیں تو اس وقت میں یہی چاہتا ہوں کہ ان سے مصافحہ کروں اور وہ لوگ جو ایسی حالت میں کہتے ہیں کہ مصافحہ نہ کرو ان کی یہ بات مجھے نہایت ہی شرمناک معلوم ہوتی ہے۔اس کی تحقیقات تو میں بعد میں کروں گا کہ یہ صریح نافرمانی کیوں کر ہوئی؟ لیکن میں چاہتا ہوں کہ دوستوں سے اس بات کی معذرت کر دوں کہ میرا ان سے مصافحہ نہ کرنا آج نظام کے قیام کے لئے ضروری تھا۔ہمارے ہندوستانیوں کی عموماً اور مسلمانوں کی خصوصاً سب سے بڑی لعنت یہی ہے کہ ان کے 296