تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 284

تقریر فرمودہ 28 جون 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول آخر وہاں ناٹک کا تماشا تو نہیں ہو گا کہ چاروں طرف سے فرشتے بھیس بدل بدل کر آرہے ہوں گے اور مومنوں کو سلام کریں گے۔مِنْ كُلِّ بَابِ سَلَامٌ سے مراد یہی ہے کہ چونکہ مومن نے دنیا میں ہر باب سے قربانی دی ہوگی اور ہر تکلیف کو خدا تعالٰی کے لئے برداشت کیا ہو گا اس لئے خدا تعالیٰ بھی ہر دروازے سے اس پر سلامتی بھیجے گا۔پس وہ شخص جو اپنے لئے قربانی کا ایک دروازہ بھی بند کرتا ہے جنت کا ایک دروازہ اپنے او پر بند کرتا ہے جس کا دوسرے لفظوں میں یہ مطلب ہے کہ ایسا شخص جو اسلام سے تعلق رکھنے والی کسی قربانی سے پیچھے رہتا ہے جنت میں داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ جنت میں وہی شخص داخل ہوگا جس نے ہر دروازہ سے خدا تعالیٰ کیلئے موت قبول کی ہوگی اور ہر قربانی کیلئے اس نے اپنے آپ کو تیار رکھا ہوگا۔وہ بخیل جو مال کی قربانی کے وقت پیچھے ہٹ جاتا اور بہانے بنا بنا کر اس سے محفوظ رہنا چاہتا ہے وہ قربانی کا ایک دروازہ اپنے اوپر بند کر لیتا ہے کیونکہ یہ شرط ہے کہ جنت میں داخل ہونے والے پر ہر دروازہ سے سلامتی او بھیجی جائے گی۔پس اگر اس نے ہر قربانی میں حصہ نہیں لیا تو وہ جنت میں داخل ہو کر ہر سلامتی کا مستحق کس طرح بن سکتا ہے؟ وہ بزدل جو خدا تعالیٰ کے راستہ میں اپنا خون بہانے سے ڈرتا ہے، جسے اپنی جان خدا تعالیٰ کے دین کے مقابلہ میں زیادہ پیاری دکھائی دیتی ہے وہ قربانی کا ایک دروازہ اپنے اوپر بند کرتا اور اس کے نتیجہ میں جنت کا دروازہ بھی اپنے اوپر بند کر لیتا ہے کیونکہ جنت میں وہی داخل ہوگا جس نے ہر دروازہ سے خدا تعالیٰ کے لئے قربانی دی ہوگی اور جس کے پاس ہر دروازہ سے فرشتے سلامتی کا پیغام لے کر آئیں گے۔یہ کیوں کر ہوسکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کے فرشتے آئیں اور ایک شخص اپنے مکان میں ان میں سے کسی ایک فرشتے کو داخل نہ ہونے دے تو باقی فرشتے داخل ہو جائیں؟ کیا کوئی غیرت مند یہ برداشت کر سکتا ہے کہ وہ اور اس کا بھائی کسی کے مکان پر جائیں اور مالک مکان کہے کہ تمہیں تو اندر آنے کی اجازت ہے مگر تمہارے بھائی کو نہیں تو وہ بھائی کو وہیں چھوڑ کر آپ اندر چلا جائے؟ اگر تم اپنے بھائی کے ساتھ کسی سے ملنے کیلئے جاتے ہو اور وہ کہتا ہے کہ تم آجاؤ اور تمہارا بھائی نہ آئے تو تمہیں غیرت آتی ہے اور تم کہتے ہو کہ اگر میرے بھائی کو اندر نہیں آنے دیتے تو میں بھی نہیں آسکتا تو کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک فرشتہ کے لئے تم دروازہ بند کرو تو باقی فرشتے تمہارے پاس آجائیں؟ یقیناً وہ بھی نہیں آئیں گے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نکتہ دنیا کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ بتایا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے رب کے حکم کے ماتحت جب اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو خدا تعالیٰ کیلئے قربان کرنے کو تیار ہو گئے تو 284