تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 283

تحریک جدید- ایک البی تحر یک۔۔۔جلد اول تقریر فرمودہ 28 جون 1936ء مذہباً ان سے جدا کیا ، خدا تعالیٰ نے ابراہیم کا امتحان اس طرح لیا کہ ان کے ہاتھ سے اپنے بیٹے پر چھری چلوانی چاہی ، خدا تعالی نے لوڈ کا امتحان اس طرح لیا کہ ان کی بیوی ان سے الگ رہی ، خدا تعالیٰ نے موسی کا امتحان اس طرح لیا کہ ان کا وطن ان سے چھڑایا اسی طرح خدا تعالیٰ نے عیسی کا امتحان اس طرح لیا کہ انہیں صلیب پر لٹکا دیا۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان میں سے فلاں قربانی چھوٹی ہے اور فلاں بڑی۔یہ تو خدا تعالیٰ کی مصلحت ہوتی ہے کہ وہ کسی قوم کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جس طرح چاہتا ہے اس کا امتحان لیتا ہے مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ یہ سارے امتحان اپنی اپنی جگہ پر حکمت ہیں اور یہ امتحان اللہ تعالیٰ انسان کے فائدہ کے لئے لیتا ہے خواہ کسی انسان کا وہ امتحان لے جو اس نے حضرت نوح علیہ السلام سے لیا خواہ وہ امتحان لے جو اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لیا خواہ وہ امتحان لے جو اس نے حضرت لوط علیہ السلام سے لیا خواہ وہ امتحان لے جو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لیا خواہ وہ امتحان لے جو اس نے حضرت عیسی علیہ السلام سے لیا اور خواہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح سارے امتحان ہی اس سے لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قریب ترین وجودوں سے بھی خدا تعالیٰ نے چھڑایا۔چنانچہ ان کے اپنے چچا ایمان سے محروم رہے، اُن سے وطن بھی چھڑایا اور انہیں دشمنوں نے صلیب کی قسم کی تکالیف بھی دیں جیسے اُحد کی جنگ میں آپ ﷺ پر پتھر پھینکے گئے اور آپ علیہ بے ہوش ہو گئے۔واقعہ صلیب کیا تھا؟ یہی کہ ہاتھ پاؤں میں کیل گاڑے گئے جس سے حضرت عیسی علیہ السلام - ہوش ہو گئے مگر اس وقت فوت نہیں ہوئے اسی طرح اُحد کی جنگ میں کھیلوں کی جگہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارے گئے ، آپ یو کے دانت گرے اور آپ یہ بے ہوش ہو گئے۔غرض جو تکلیف حضرت عیسی علیہ السلام پر آئی وہی تکلیف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پیش آئی اسی طرح حضرت موسی علیہ السلام کواپنا وطن چھوڑ نا پڑا اورمحمدصلی اللہ علہ وسلم کو بھی وطن چھوڑنا پڑا۔غرض وہ تمام قربانیاں جو پہلوں سے لی گئیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اکٹھی لی گئیں۔اب ہم کس قربانی کو حقیر کہہ سکتے ہیں؟ کس قربانی کو چھوٹا اور کس کو بڑا کہہ سکتے ہیں؟ یہ حض خدا تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ قربانی کے جس دروازہ سے چاہے انسان کو بلائے ورنہ جب خدا کہتا ہے کہ جنت میں ہر دروازہ سے فرشتے آئیں گے اور جنتیوں کو سلام کہیں گے تو اس کے یہی معنے ہیں کہ خدا کہے گا تم پر ہر دروازہ سے مصیبت آئی تھی اور تم نے اسے قبول کیا اب اس کے بدلہ میں ہر دروازہ سے تم پر سلامتی بھیجی جاتی ہے۔اگر ہر دروازے سے کسی نے موت قبول نہیں کی تھی تو ہر دروازے سے اُس پر فرشتوں کے ذریعہ سلامتی بھیجنے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ 283