تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 266
خطبہ جمعہ فرمودہ 15 مئی 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد اول ان کا اپنے آپ کو مستحق بنائے تو وہ پورے ہوتے ہیں۔کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ اُحد میں کامیابی کے اللہ تعالیٰ کے وعدے نہ تھے ؟ پھر کیا صرف دس آدمیوں کی غلطی سے وہ فتح شکست نما نہ ہو گئی تھی؟ پس اگر ایک ہزار میں سے دس کی غلطی فتح کو شکست نما بنا سکتی ہے تو آج تم میں سے ہزاروں کی غفلت سے تمہاری فتح شکست نما کیوں نہیں بن سکتی؟ ہمارے لوگ اس بات پر مطمئن ہیں بالکل اس طرح جس طرح غافل اور تباہ ہونے والی قو میں ہوتی ہیں کہ وہ ایک آئینی حکومت کے ماتحت آباد ہیں اور کہ انگریز منصف اور عادل ہیں۔اب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک سبق دیا ہے کہ جن انگریزوں پر تم انحصار کر سکتے ہو وہ بھی تمہارے دشمن ہو سکتے ہیں مگر افسوس! کہ ہمارے دوستوں کی آنکھیں ابھی تک نہیں کھلیں میرے بار بار کے خطبات کے باوجود بعض دوست لکھتے رہتے ہیں کہ ہماری سفارش کر دو۔حالانکہ آج کل حکومت کے بعض انگریز افسر بھی جماعت احمدیہ کے شدید دشمن ہیں ایسے ہی دشمن ہیں جیسے چودھری افضل حق صاحب اور مولوی عطاء اللہ صاحب۔ہم پر صریح ظلم کیا جاتا ہے ، صریح جھوٹ ہمارے متعلق بولا جاتا ہے مگر ایسے افسر کوئی توجہ نہیں کرتے بلکہ ایسا کرنے والوں کو انگیخت کرتے ہیں مگر ہم میں سے بعض بے حیا بن کر کہتے ہیں کہ ہماری سفارش کرو۔مجھے اس وقت حیرت ہوتی ہے کہ انسان بے حیائی میں کتنا کمال تک پہنچ سکتا ہے۔وہ ان باتوں کو شاید مبالغہ اور مذاق سمجھتے ہیں۔جو باتیں مجھے معلوم ہیں وہ تو بہت بڑی ہیں مگر جتنی میں نے تو بتائی ہیں ان کا ہزارواں حصہ بھی اگر ایک شخص کے متعلق ثابت ہو تو میں تو موت کو اس کے پاس سفارش کر نے کو ترجیح دوں۔تمہارے دل میں تو ان باتوں کا اتنا احساس چاہئے تھا کہ خواہ پھانسی پر لٹکنا پڑتا تمہارے بیوی بچوں کو تمہارے سامنے قتل کر دیا جاتا تو تم اس بات کو زیادہ پسند کرتے یہ نسبت ایسے لوگوں کے پاس سفارش لے جانے کے۔ایسے افسر تو ہمارے دشمن ہیں مگر شیخ سعدی علیہ الرحمہ نے تو کہا ہے کہ: حقا که با عقوبت دوزخ برابر است رفتن بہ پائے مردی ہمسایہ در بہشت یعنی ہمسایہ کی مدد سے جنت میں جانا دوزخ کے برابر ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ اس قسم کی مثالیں محدود ہیں نہ ہندوستان کی ساری گورنمنٹیں ایسی ہیں نہ پنجاب گورنمنٹ کے سارے افسر ایسے ہیں مگر سوال تو یہ ہے کہ ایسے وقت میں کون کہہ سکتا ہے کہ کون کیسا ہے؟ پس ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ انسان غیرت سے کام لے اور کہے کہ ہم سفارش نہیں کراتے۔آج حالت یہ ہے کہ پچھلے دنوں ایک بڑے افسر نے کہا تھا کہ احمدیوں کی بھرتی کی حکومت نے ممانعت نہیں کی اور بعض افسروں نے اعلان کیا تھا کہ سیدوں 266