تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 261

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد اول اقتباس از تقریر فرموده 21 اپریل 1935ء آئے گی جو نبیوں کو سچے دل سے مانے والوں پر آتی ہے مگر نا کامی کی موت نہیں آسکتی کیونکہ تم جس پر گرو گے وہ چکنا چور ہو جائے گا اور جو تم پر گرے گا وہ بھی چکنا چور ہو جائے گا۔یہ مقام تم یقینی طور پر حاصل کر لو گے مگر اسی طرح کہ اس راستہ سے خدا تعالیٰ کے پاس جائیں جو میں نے بتایا ہے۔پرسوں میں نے جو تقریر کی اس کے بعد میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ قاری سرفراز حسین جو دہلی کے تھے اور اب فوت ہو چکے ہیں اور میں نے ان کی شکل کبھی نہیں دیکھی وہ آئے اور میرے پاس بیٹھ گئے۔اس کی تعبیر میری سمجھ میں یہ آئی کہ جو سرفراز ہونا چاہتا ہے وہ سینی نمونہ دکھا کر عزت حاصل کرے۔میں سمجھا اس سے خدا تعالیٰ کا یہی بتانا مقصود تھا۔گویا خدا تعالیٰ نے جماعت کو یہ پیغام دیا ہے کہ جماعت اگر سرفراز بننا چاہتی ہے تو حسینی نمونہ دکھا ئیں اور اس ابتلا میں سے کامیابی کے ساتھ گزر جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے: کر بلا نیست سیر ہر صد حسین است آنم در گریبانم جب تک ہم یہ مثال پیش نہیں کرتے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہمیں یہ نمونہ دکھانا ہوگا تب ترقی ہوگی۔پس خدا تعالیٰ کا ارادہ یہ ہے کہ تم دنیا کے سامنے اس نیت سے جاؤ کہ خدا کی راہ میں مارے جائیں گے مگر خدا تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ اس زمانہ میں مارے نہیں جائیں گے۔ہم میں سے ہر ایک کو موت قبول کر کے یزید کے لشکر کے سامنے جانا اور کر بلا سے گزرنا ہے مگر نتیجہ وہی ہوگا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت ہوا کہ چھری حضرت اسمعیل علیہ السلام کی گردن کی بجائے مینڈھے کی گردن پر چلی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ابراہیم بھی کہا گیا ہے اور اسمعیل بھی۔آپ کو ثم تھا اور آپ نے دعائیں کیں۔آپ نے جب یہ کہا کہ صد حسین است در گریبانم تو اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی جماعت حسین بننے والی ہے تب آپ نے دعا کی اور آپ کو بتایا گیا کہ آپ کی جماعت حسین بنے گی مگر ہم اسمعیل بنا کر بچالیں گے۔میں امید کرتا ہوں کہ دوست اپنی ذمہ داری کو سمجھیں گے اور دوسروں کو سمجھائیں گے کہ اس سال کے ہی نہیں بلکہ اس سے پہلے کے بھی تمام بقائے صاف کر دیئے جائیں اور مجھے امید ہے کہ دین کی تبلیغ کے لئے بھی اپنے آپ کو وقف کر کے دست در کار و دل بایار کی مثال پیش کریں گے۔زمیندار کا ہاتھ اہل پر ہو مگر دماغ میں یہ چکر چل رہا ہو کہ اسلام کو غالب کر کے رہیں گے، دفتروں میں کام کرنے والوں کی قلمیں کا غذات کا لے کر رہی ہوں مگر ان کے دل میں یہی ہو کہ خدا تعالیٰ کے دفتر میں ان کے نام لکھے جائیں، 261