تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 259
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از تقریر فرموده 21 اپریل 1935ء وثوق سے جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمیں ضرور کامیاب کرے گا اور دشمن ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔مجھے یہ خطرہ نہیں کہ دشمن کیا کرے گا بلکہ یہ ڈر ہے کہ اپنے آدمیوں میں سے کوئی غلطی نہ کر بیٹھے جیسے اُحد کی جنگ میں بعض صحابہ نے غلطی کی تھی۔اگر دوست اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں مٹا دینے کے لئے تیار ہو جائیں تو کوئی انہیں مٹا نہیں سکتا اور وہ خدا تعالیٰ تک پہنچ جائیں گے۔پس اس طرح یہ طوفان ہمیں اونچا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے اگر سب دوست اس بات کو سمجھ لیں کہ ہمارا نقطہ نگاہ کیا ہے تو وہ وقت دور نہیں جب ہمیں عظیم الشان کامیابی حاصل ہوگی۔دنیا میں کام دو طرح ہوتے ہیں: ایک محبت سے، دوسرے خوف سے۔یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ لگی ہوتی ہیں مگر کبھی باری باری آتی ہیں۔کچھ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ ان کے کاموں پر محبت غالب ہوتی ہے اور کچھ وہ ہوتے ہیں جن کے کاموں پر خوف غالب ہوتا ہے یعنی انسان بعض کام خوف سے کرتا ہے اور بعض کام محبت سے۔یہ دو دائرے ہیں ان کے متعلق ایک بات یاد رکھنی چاہئے اور وہ یہ کہ جن کا دائرہ محبت کا ہوتا ہے وہ خواہش کے ماتحت ہوتا ہے کہ یہ بھی ہو جائے اور یہ بھی حاصل ہو جائے اور جن کا دائرہ خوف کا ہوتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو جائے۔آج کل جب کہ ایک قسم کا خوف پیدا ہے میں دیکھتا ہوں بعض کی حالت ایسی ہے کہ وہ کہتے ہیں ایسا نہ ہو جائے یعنی احرار ہمیں تباہ نہ کر دیں مگر کام کرنے کا یہ محرک اولی ہے مومن کا محرک یہ ہوتا ہے کہ یہ بھی لینا ہے اور وہ بھی لینا ہے۔اس کی مثال بچہ کی سی ہوتی ہے جس کی ترقی محبت کے ماتحت ہوتی ہے، اس کی بڑی بڑی امنگیں ہوتی ہیں وہ کبھی کہتا ہے میں بہت بڑا تاجر بنوں گا کبھی کہتا ہے میں بادشاہ بنوں گا لیکن اگر کسی بوڑھے سے پوچھو کہ تمہاری کیا خواہش ہے تو وہ کہے گا بس یہی کہ انجام بخیر ہو جائے۔بچہ یہ کوشش کرتا ہے کہ یہ بھی لے لوں مگر بوڑھا یہ کوشش کرتا ہے کہ اس بلا سے بچ جاؤں اور اس بلا سے بھی بچ جاؤں ، بوڑھا آخرت کی فکر میں ہوتا ہے مگر بچ نئی دنیا پیدا کر رہا ہوتا ہے، بڑھے کا محرک گرنے والا ہوتا ہے مگر بچے کا بڑھنے والا ، میں ان بڑھوں کا ذکر نہیں کرتا جو مرنے کے وقت تک بھی جوان ہی ہوتے ہیں، حضرت انس ایک سو دس برس کی عمر میں جب فوت ہونے لگے اور ان کے دوست ان کے پاس آئے اور پوچھا کوئی خواہش ہے تو انہوں نے کہا شادی کرا دو۔پس مومن کبھی بوڑھا نہیں ہوتا کیونکہ جسم کے بڑھاپے کی وجہ سے بڑھا پا نہیں آتا بلکہ روح کے بڑھاپے سے آتا ہے۔بچہ جب باتیں کرنے لگتا ہے تو اس زمانہ میں کہتا ہے چاند لینا ہے، تارالیتا ہے۔میرے متعلق ہی آتا ہے کہ رات کو میں اور ہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے اُٹھالیا اور 259