تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 258
اقتباس از تقریر فرموده 21 اپریل 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول یہ تحریک اقتصادی تجاویز کا مغز ہے اسے اگر دوست سمجھ لیں اور اس کی تعلیم اپنی اپنی جماعت کے ہر ایک فرد کو دیں تو بہت شاندار نتائج نکل سکتے ہیں۔اس کے لئے میں نے ایک تجویز بھی بتائی تھی کہ مہینہ میں ایک دن ایسا رکھو جبکہ تحریک جدید کے مطالبات بیان کئے جائیں، ہر مہینے ایک جلسہ ہو جس میں سارے مطالبات ذہن نشین کئے جائیں۔ہماری جماعت جس قدر قربانی کرتی ہے اس کی مثال سکھوں میں نہیں مل سکتی باوجود یکہ وہ قربانی کرنے میں بڑے مشہور ہیں مگر ان میں ہماری جماعت کے مقابلہ میں 1/10 حصہ بھی قربانی نہیں پائی جاتی لیکن سکھ عام طور پر کر پان لگائے پھرتے ہیں اور ہمارے آدمی سونا رکھنے کے بھی عادی نہیں۔ان میں اطاعت کی کمی نہیں مگر یہ بات یاد نہیں رہتی اگر یاد دلایا جاتا تو اس وقت تک کوئی احمدی ایسا نہ ہوتا جو اپنے ہاتھ میں سوٹا نہ رکھتا۔تو دہرانے سے بات یاد آجاتی ہے اسی طرح جب تحریک کی جائے کہ چندہ با قاعدہ ادا کیا جائے اور اس پر خطبہ پڑھا جائے اور پھر یہاں سے رپورٹ کی جائے کہ اتنا قرضہ ہے تو اس سے جماعت میں بیداری پیدا ہو جائے گی۔اس کے بعد میں دوستوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے سامنے ایک بہت بڑی مصیبت ہے مگر اس میں بھی دوستوں کو ایک بات یاد رکھنی چاہئے اور وہ یہ کہ اس مصیبت کو ہی ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔موجودہ ابتلا ایسا ہی ہے جیسے طوفان یا آندھی آجاتی ہے۔ہمیں لوگ پیس کر رکھ دینا چاہتے ہیں مگر میں سمجھتا ہوں یہ طوفان بھی ترقی کا موجب بن سکتا ہے۔طوفان کیا کرتا ہے؟ یہ کہ جو سر بلند چوٹیاں ہوتی ہیں انہیں نیچے گرا دیتا ہے اور جو پسا ہوا غبار ہوتا ہے اسے آسمان کی طرف چڑھا دیتا ہے۔پس آؤ ہم وہ طریق اختیار کریں کہ اپنے آپ کو پیس کر خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کر دیں کہ لے یہ غبار اور اس طرح سر بلندی حاصل کریں مگر وہ طوفان جو غبار کو اونچا اٹھا لیتا ہے وہ گرا بھی سکتا ہے۔اگر ہم تکبر اور خود پسندی سے کھڑے ہوں گے تو ضرور گریں گے اور اسی بات کا مجھے سب سے زیادہ خطرہ ہے اور ہمارے رستہ میں یہی روک ہے۔معاندین قادیان میں ہر قسم کی شرارتیں کرتے اور ایذائیں پہنچاتے ہیں اس سے مجھے یہ ڈر نہیں وہ ہمیں مٹا دیں گے بلکہ یہی ڈر رہتا ہے کہ ان کی اشتعال انگیزیوں کی وجہ سے کوئی نو جوان لڑ نہ پڑے، مجھے یہ ڈر نہیں کہ وہ ہمیں مارتے ہیں بلکہ یہ ڈر ہے کہ ہمارا کوئی آدمی ان کے اشتعال دلانے پر ان کو نہ مار بیٹھے۔اگر مجھے یہ اطمینان حاصل ہو جائے کہ ہماری جماعت کا کوئی آدمی کسی حالت میں بھی قانون شکنی نہیں کرے گا تو ہم مخالفین کی تمام شرارتوں کے باوجود بے فکر ہو کر کام میں لگ جائیں۔پس مجھ پر یہ بوجھ نہیں کہ احرار ہمارے آدمیوں کو مارتے ہیں بلکہ یہ بوجھ ہے کہ جب وہ مارنے لگیں تو ہمارا کوئی آدمی بھی نہ مار بیٹھے۔میں 258