تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 238

خطبہ جمعہ فرموده 20 دسمبر 1935ء کر دے گا۔تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول جو شخص بے کار رہتا ہے وہ کئی گندی عادتیں سیکھ جاتا ہے۔مثلا تم دیکھو گے کہ بے کار آدمی ضرور اس قسم کی کھیلیں کھیلے گا جیسے تاش یا شطرنج وغیرہ ہیں اور جب وہ یہ کھیلیں کھیلنے بیٹھے گا تو چونکہ وہ اکیلا کھیل نہیں سکتا اس لئے وہ لاز مادو چار اور لڑکوں کو اپنے ساتھ ملانا چاہے گا اور پھر اپنے حلقہ کو اور وسیع کرتا جائے گا۔اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے ہمارے ایک اُستاد تھے ان کے دماغ میں کچھ نقص تھا بعد میں وہ اسی نقص کی وجہ سے مدعی کا موریت اور نبوت بھی ہو گئے ، انہیں بھی کسی زمانہ میں تاش کھیلنے کا شوق تھا اور باوجود اس کے کہ وہ ہمارے استاد تھے اور ان کا کام یہ تھا کہ ہماری تربیت کریں پھر بھی وہ پکڑ کر ہمیں بٹھا لیتے اور کہتے آؤ تاش کھیلیں۔اس وقت ہم کو بھی اس کھیل میں مزہ آتا کیونکہ بچپن میں جس کام پر بھی لگا دیا جائے اس میں بچے کو لذت آتی ہے لیکن آج یہ بے ہودہ کھیل معلوم ہوتی ہے۔مجھے یاد ہے بعض اور بچے بھی ان کے ساتھ تاش کھیلتے جب نماز کا وقت آتا تو ہم نماز پر جانے کے لئے گھبراہٹ کا اظہار کرتے لیکن جب انہیں ہماری گھبراہٹ محسوس ہوتی تو کہتے ایک بار اور کھیل لو! وہ کھیلتے تو تھوڑی دیر کے بعد کہتے ایک بار اور کھیل لو! ہمارے کان میں چونکہ ہر وقت یہ باتیں پڑتی رہتی تھیں کہ دین کی کیا قیمت ہے اس لئے جب ہم دیکھتے کہ نماز کو دیر ہو رہی ہے تو اٹھ کر نماز کے لئے بھاگ جاتے مگر جن کے کانوں میں یہ آواز نہ پڑے کہ دین کی کیا قدر و قیمت ہوتی ہے اُن کے ساتھ اگر ایسی کھیلوں میں دوست مل جائیں یا کوئی اُستاد ہی مل جائے تو ان کی زندگی کے تباہ ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے؟ جس وقت فٹ بال کی کھیل میں مقابلہ ہوتا ہے یا کرکٹ میں مقابلہ ہوتا ہے یا تاش میں مقابلہ ہوتا ہے تو بچے لذت محسوس کرتے ہیں کیونکہ انسان کو ترقی دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فطرت میں یہ مادہ رکھا ہے کہ وہ مقابلہ میں دلچسپی لیتی اور لذت محسوس کرتی ہے۔اگر کبھی چوری کے مقابلہ کی عادت ڈال دو تو تھوڑے ہی دنوں میں تم دیکھو گے کہ چوریاں زیادہ ہونے لگی ہیں اور لوگوں نے چوری میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔یہی مقابلہ کی روح ہے جو تاش وغیرہ کھیلوں کے ذریعہ بچوں کی زندگی برباد کر دیتی ہے۔غرض تم کسی شہر میں ایک آوارہ کو چھوڑ دو وہ چونکہ بے کار ہوگا اس لئے اپنی بے کاری کو دور کرنے کے لئے کوئی کام نکالے گا کیونکہ انسان اگر فارغ بیٹھے تو تھوڑے ہی دنوں میں پاگل ہو جائے لیکن چونکہ وہ محنت سے جی چراتا ہے اس لئے بجائے کوئی مفید کام کرنے کے ایسے کام کرتا ہے جن میں اس کا دن بھی گزر جاتا ہے اور جی بھی لگارہتا ہے۔کہیں تاش شروع ہو جائیں گے، کہیں شطرنج کھیلی جائے گی ، کہیں گانا شروع ہو جائے گا، کہیں 238