تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 237
تحریک جدید - ایک ابھی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 20 دسمبر 1935ء لیکن چونکہ یہ کام ایک عرصہ سے ہماری جماعت کے ذہن سے اترا ہوا تھا اس لئے میں دعوۃ و تبلیغ والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ لوگوں سے تدریجا کام لیں اگر انہوں نے پہلے ہی یکدم لوگوں پر بوجھ ڈال دیا تو جنہوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے وہ اس کی برداشت نہ کر سکیں گے اور کام کرنا چھوڑ دیں گے چونکہ ہماری جماعت کے افراد کے لئے یہ نیا کام ہوگا اس لئے آہستہ آہستہ اس کی انہیں عادت ڈالی جائے، پہلے کسی ایک جلسہ پر انہیں بھیجا جائے کچھ مدت کے بعد دو جلسوں پر ان سے لیکچر دلائے جائیں اسی طرح تدریج کے ساتھ ترقی کی جائے اور یکدم بار نہ ڈالا جائے۔اگر اس طرح کام لیا گیا تو تھوڑے ہی عرصہ کے بعد لوگ کام کرنے کے عادی ہو جائیں گے اور پھر اس قدر انہیں شوق پیدا ہو جائے گا کہ وہ خود کہیں گے ہمیں کسی جلسہ پر لیکچر کے لئے بھیجا جائے۔میں نے یہ دیکھا ہے خواجہ کمال الدین صاحب لیکچر دیا کرتے تھے ہمیں ان کے لیکچروں پر کتنا ہی اعتراض کیوں نہ ہو چونکہ وہ وکالت کی پریکٹس چھوڑ کر لیکچر دیا کرتے تھے اس لئے لوگوں پر علما کے لیکچروں سے ان کے لیکچر کا زیادہ اثر ہوتا تھا اور وہ بات چاہے کتنی ہی غلط کہتے ، لوگ کہتے ایک کامیاب وکیل اپنا پیشہ چھوڑ کر جو تبلیغ کر رہا ہے اس کی باتیں توجہ سے سننی چاہئیں۔پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم دین کے لئے وہ تمام ذرائع اختیار نہ کریں جو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے پیدا کئے ہیں۔میں ایک طرف تو دعوۃ و تبلیغ والوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ جن لوگوں نے اس سلسلہ میں اپنے نام پیش کئے ہیں ان کی لسٹ دفتر تحریک جدید سے لے کر کام شروع کریں اور دوسری طرف جماعت کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اپنے نام دفتر تحریک جدید میں بھجوائیں تاکہ تبلیغ کے اس طریق سے بھی فائدہ اُٹھایا جائے اور میں اُمید کرتا ہوں کہ جماعت کے احباب گزشتہ سال سے زیادہ اپنے آپ کو اس سلسلہ میں پیش کریں گے۔(2) تحریک جدید کی ہدایتوں میں سے ایک ہدایت یہ بھی تھی کہ ہماری جماعت کے افراد بے کار نہ رہیں۔میں نہیں کہہ سکتا میری اس تحریک پر جماعت نے کس حد تک عمل کیا ؟ لیکن اپنے طور پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ جماعت نے اس پر کوئی عمل نہیں کیا اور اگر کیا ہو تو میرے پاس اس کی رپورٹ یا درکھو! جس قوم میں بے کاری کا مرض ہو وہ نہ دنیا میں عزت حاصل کر سکتی ہے اور نہ دین میں عزت حاصل کر سکتی ہے۔بے کاری ایک وبا کی طرح ہوتی ہے جس طرح ایک طاعون کا مریض سارے گاؤں والوں کو طاعون میں مبتلا کر دیتا ہے، جس طرح ایک ہیضہ کا مریض سارے گاؤں والوں کو ہیضہ میں مبتلا کر دیتا ہے اسی طرح تم ایک بے کار کوکسی گاؤں میں چھوڑ دووہ سارے نو جوانوں کو بے کار بنانا شروع 237