تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 231

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 13 دسمبر 1935ء اگر مر بھی جاؤں تو وہ دوسرے سے یہی کہلوائے گا اور اس کے مرنے کے بعد کسی اور سے۔بہر حال چھوڑے گا نہیں جب تک تم سے اس کی پابندی نہ کرالے۔یہ پہلا قدم ہے اور اس کے بعد اور بہت سے قدم ہیں۔یہ سب باتیں قرآن مجید میں موجود ہیں اور جب تم پہلی باتوں پر عمل کر لو گے تو پھر اور بتائی جائیں گی لیکن جب تک ان پر عمل نہ کرو اور نئی کس طرح پیش کی جاسکتی ہیں؟ آخر میں میں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ سستیوں اور غفلتوں کو دور کرو، اپنے اندر بیداری پیدا کرو، ہر تحریک میں طاقت کے مطابق حصہ لو مگر طاقت کا اندازہ وہ نہ کرو جو منافق کرتا ہے بلکہ وہ کرو جو مومن کرتا ہے۔چندہ اور امانت فنڈ دونوں میں حصہ لو اور سادہ زندگی اختیار کرو کہ وہ نور بخشنے والی ہے جو اسے اختیار نہیں کرتا وہ سمجھ لے کہ اس کے لئے جہنم تیار ہے۔کوئی بات میں نے ایسی نہیں کہی جس کی کل کو ضرورت نہیں پیش آنے والی۔جب وقت آئے گا تو وہ لوگ جنہوں نے مان کر عمل کیا دعا ئیں دیں گے کہ خدا بھلا کرے جس نے ہمیں اس وقت کے لئے تیار کر دیا تھا اور نہ ماننے والے اپنے آپ کو لعنت کریں گے۔احمدیت اسلام کا نام ہے جس طرح اسلام نے تلوار کے سایہ میں پرورش پائی تھی اسی طرح جب تک دنیا کا چپہ چپہ احمدیوں کے خون سے رنگین نہیں ہوتا احمدیت ترقی نہیں کرسکتی اور اگر تم ی سمجھتے ہو کہ اس کے بغیر ہی ترقی حاصل ہو جائے گی تو تم سے زیادہ بے وقوف، دھوکا خوردہ اور پاگل دنیا میں اور کوئی نہیں۔ہر ملک میں اور ہر علاقہ میں تمہیں ہر طرح کی قربانیاں کرنی پڑیں گی اور اس کے لئے جو سپاہی آج مشق نہیں کرتا وہ کل جان کب دے سکے گا ؟ (مطبوعہ الفضل 21 دسمبر 1935 ء ) 231