تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 229

تحریک جدید- ایک ابھی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 13 دسمبر 1935ء لیکن ہم ابھی تک اہل چین کی خبر نہیں لے سکے۔حالانکہ اب سفر کی سہولتیں میسر ہیں، ڈاک کا سلسلہ ہے اور ان مقامات پر بھی جہاں ڈاک بہت دیر سے پہنچتی ہے چھ ماہ کے اندر متعلقین کے حالات کا علم ہو سکتا ہے مگر اس زمانہ میں یہ باتیں نہ تھیں اور تاریخوں سے پتہ چلتا ہے کہ بعض دفعہ لوگ رشتہ داروں کی تلاش میں عمریں صرف کر دیتے تھے۔ایک بچہ جب جوان ہوتا تو باپ کی تلاش میں نکلتا تھا اور اسی میں بوڑھا ہو جاتا تھا لیکن آج ڈھائی آنہ کا خط ساری دنیا میں خبریں پہنچا دیتا ہے۔پھر اس زمانہ میں لوٹ مار کا سلسلہ بہت زیادہ تھا مگر اب نہیں۔چین کے بعض حصوں میں بے شک ابھی یہ سلسلہ جاری ہے لیکن جاپان ، سٹریٹ سیٹلمنٹ ، جاوا، سماٹرا وغیرہ میں جاؤ وہاں کوئی خطرہ نہیں۔پھر ریلوں اور جہازوں کا سفر ہے اور زائد چیز یہ ہے کہ امداد کی بھی صورت ہے مگر ان سب باتوں کے باوجود تمہارے اندر وہ جوش نہیں جو پہلے زمانہ میں صحابہ کے اندر تھا۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے لئے ایک اُسوہ حسنہ بنایا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی سے مراد صرف آپ ﷺ کی ذاتی زندگی ہی نہیں بلکہ صحابہ بھی اس میں شامل ہیں وہ بھی آپ ﷺ کی زندگی کا جزو ہیں اور جیسی قربانیاں انہوں نے کیں ویسی ہی خدا تعالیٰ ہم سے بھی چاہتا ہے۔اگر ہم میں ایسے لوگ پیدا نہ ہوں تو ہم کس طرح ان جیسا ثواب حاصل کر سکتے ہیں؟ اس کے لئے ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو تعلیم سے فارغ ہو چکے ہوں اور باہر نکل جائیں مگر ہزاروں ایسے فارغ التحصیل نوجوان ہیں جو گھروں میں بیٹھے روٹیاں تو ڑ رہے ہیں اور ماں باپ کے لئے بوجھ بنے ہوئے ہیں مگر کوئی مفید کام نہیں کرتے۔“ " جب تمہیں علم ہے کہ تبلیغ کا قرآن کریم میں عام حکم ہے اور صراحتاً انفِرُوا کا حکم موجود ہے یعنی دور نکل جاؤ اور کلام الہی کو پھیلاؤ پھر قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کام کے بڑے بڑے اجر ہیں تو ان سب باتوں کے ماننے کے باوجود تم بتاؤ کہ تمہیں کیا عذر ہے کہ جب تم کو دین کی خدمت کے لئے جماعتی طور پر بلایا جاتا ہے تو تم فوراً اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے ؟ اِنفِرُوا فِي سَبِيلِ اللہ میں دور دور نکل جانے کا بھی حکم ہے اور چند ماہ کے وقف کی جو صورت میں نے پیش کی ہے وہ بھی اس میں شامل ہے کیونکہ انفروا کے معنی صرف جلدی سے نکل کھڑے ہونے کے بھی ہوتے ہیں۔کئی لوگ یہ عذر کر دیتے ہیں کہ ہم گھروں میں ہی تبلیغ کرتے ہیں مگر گھروں میں یکسوئی سے تبلیغ نہیں ہو سکتی وہاں آدمی بیوی بچوں کے مشاغل میں الجھا رہتا ہے کبھی بچہ بہار ہو گیا تو اس کی طرف متوجہ ہونا پڑا بھی کسی اور طرف توجہ بٹ گئی لیکن دوسرے علاقہ میں دوسرے مشاغل سے بالکل فارغ ہو جاتا ہے۔229