تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 228
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود 13 دسمبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول کے علم اور تجر بہ میں زیادتی ہوگی بلکہ چند سالوں میں ہماری تبلیغ میں بھی اتنی وسعت پیدا ہو جائے گی جو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں۔گھروں میں بے شک تبلیغ کرو مگر اس طرح ایک ایک مہینہ کیلئے وقف کرنا کئی لحاظ سے فائدہ مند ہے۔جو لوگ اس طرح تبلیغ کیلئے گئے ہیں ان میں سے کئی اگر چہ کورے ہی واپس آئے ہیں مگر بہت سے ہیں جن کے اندر یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ ہمیں اپنے علم میں اضافہ کرنا چاہئے تا آئندہ زیادہ اچھی طرح تبلیغ کر سکیں۔یہ رکوع جس کی میں نے آج تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسے ہی جماعتی کاموں کی طرف بلایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض اوقات ایسے آتے ہیں کہ ساری قوم کو قربانی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس میں کوتاہی نیک نتائج پیدا نہیں کر سکی بلکہ قوم کو تباہ کر دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِى سَبِيلِ اللهِ انَّا قَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ أَرَضِيتُمُ بِالْحَيَوةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَوة - الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيل (التوبة: 38) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم کہتے ہو کہ ہم ایمان لائے تو ایمان کے اس دعوئی کے بعد وجہ بتاؤ کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کے راستہ میں دور دور نکل جاؤ اور جلدی جلدی اپنے کاموں سے فارغ ہو کر آجاؤ تو کیوں نہیں آتے؟ نفر کے ایک معنی دور نکل جانے کے ہیں اور ایک جلدی سے آجانے کے ہیں۔آج ریل اور جہاز سفر کیلئے موجود ہیں اور ہم کچھ مدد بھی دے دیتے ہیں، ڈاک کا انتظام موجود ہے اور ہر جگہ کے حالات معلوم ہو سکتے ہیں لیکن صحابہ کرام کے زمانہ میں نہ ریلیں تھیں اور نہ جہاز۔پھر سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ ڈاک کا کوئی انتظام نہ تھا اور پتہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ ہمارا فلاں رشتہ دار کہاں ہے اور کس حال میں ہے مگر باوجود اس کے صحابہ کے اخلاص کا یہ حال تھا کہ حضرت علی کے زمانہ میں جب اختلاف پیدا ہوا اور حضرت معاویہ کے ساتھ لڑائی شروع ہو گئی تو ایک صحابی نے کہا کہ اب یہاں جہاد کا میدان ختم ہے چلو ہم کہیں اور چلیں اور وہ چین کی طرف نکل گئے اور وہاں اسلام کی بنیاد رکھی اور آج چین میں جو سات کروڑ مسلمان ہیں ان سب کا ثواب ان کو ملتا ہو گا۔غور کرو کہ کہاں عرب ہے اور کہاں چین ! ہندوستان دونوں کے درمیان ہے۔چین کی سرحد یہاں سے چار پانچ سو میل ہے اور عرب سے دو ہزار میل 228