تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 222
خطبہ جمعہ فرموده 29 نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول بلکہ بعض ہائی سکول کے طلبا ان سے زیادہ واقف تھے۔پس ایسا انتظام کیا جائے کہ ہر لڑ کا ہر مہینہ میں ایک تقریر ضرور باہر جا کر کرے اس سے ان کا علم بڑھے گا اور دماغ میں روشنی پیدا ہوگی۔اب میں پھر اصل سوال کی طرف لوٹتا ہوں۔میں نے ذکر کیا تھا کہ اس سال بھی وقف کرنے والے آدمیوں کی ضرورت ہے گزشتہ سال کے کاموں کے علاوہ بعض اور کام بھی میرے مدنظر ہیں۔مثلاً میرا ارادہ ہے کہ اس سال کی تحریک میں بے کاری کو دور کرنا بھی شامل کر لیا جائے۔اس وقت غریب اور بے کارلوگوں کو مدد دی جاتی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ آئندہ ان کو کام پر لگایا جائے۔ہماری آمد کا بہت سا حصہ تو تبلیغ پر صرف ہوتا ہے، کچھ تعلیم پر، کچھ مرکز کے کارکنوں پر اور اسی طرح لنگر خانہ پر بھی۔سالانہ جلسہ کے اخراجات کو ملا کر چھپیں چھبیس ہزار روپیہ خرچ ہوتا ہے اس کے بعد غربا کی امداد کے لئے کم رقم بچتی ہے مگر پھر بھی تعلیمی وظائف وغیرہ ملا کرتیں پینتیس ہزار روپیہ کی رقم صرف ہوتی ہے مگر اتنی بڑی جماعت کے لحاظ سے یہ پھر بھی کم رہتی ہے اور کمی کی وجہ سے کئی لوگ تکلیف اٹھاتے ہیں کئی شکوے بھی کرتے ہیں۔حالانکہ مومن کو شکوہ کبھی نہیں کرنا چاہئے اسے چاہئے کہ بجائے دو روپے نہ مل سکنے کا شکوہ کرنے کے ایک جو ملا ہے اس کا شکر کرے۔بہر حال غربا کو پوری امداد نہیں دی جاتی اور نہ دی جاسکتی ہے اور اس کی وجہ قلت سرمایہ ہے۔پس اس تکلیف کا اصل علاج یہی ہے کہ بے کاری کو دور کیا جائے۔میں نے اس کے لئے ایک کمیٹی بھی بنائی تھی مگر اس نے اپنا کام صرف یہی سمجھ رکھا ہے کہ درخواستوں پر امداد دیے جانے کی سفارش کر دے۔حالانکہ یہ کام تو میں خود بھی آسانی سے کر سکتا تھا بلکہ غربا چونکہ مجھ سے زیادہ ملتے اور اپنے حالات بیان کرتے رہتے ہیں اس لئے ان سے بہتر طور پر کر سکتا تھا۔پس امدادی رقم کی تقسیم کے لئے کسی امداد کی تو مجھے ضرورت نہیں۔میری غرض تو یہ تھی کہ بے کاروں کے لئے کام مہیا کیا جائے اس لئے میرا ارادہ ہے کہ اس شعبہ کو بھی تحریک جدید میں ہی شامل کر دیا جائے اور اس کے لئے بھی ایک ایسے آدمی کی ضرورت ہوگی جو اپنے آپ کو غربا کی امداد اور ان کے لئے کام مہیا کرنے کے لئے وقف کر دے۔یہ بھی مبلغ سے کم ثواب کا کام نہیں۔جو کام بھی سپر د کر دیا جائے وہی کرنا موجب ثواب ہے اگر کسی شخص کو کسی جگہ مدرس مقرر کر دیا جاتا ہے تو یہ نہیں کہ وہ تو اب میں مبلغ سے کم رہے گا یا مثلاً بور ڈ نگ تحریک جدید کا انچارج ہے بوجہ اس کے کہ اس کا کام دین کی خدمت کے لئے ایک نئی نسل پیدا کرنا ہے یہ مبلغ کے کام سے کم اہمیت نہیں رکھتا بلکہ اچھی طرح کیا جائے تو مبلغ سے بھی زیادہ ثواب حاصل کیا جا سکتا ہے اسی طرح غربا کو کام پر لگانے میں امداد کرنا اور اس سلسلہ میں جو روپیہ اس کے سپرد کیا جائے اسے ٹھیک طور پر استعمال کرنا کوئی کم ثواب کا موجب نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ اس میں 222