تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 211
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبه جمعه فرموده 29 نومبر 1935ء ہو جائے گی اس کے لئے یہی بہتر ہے کہ بالکل شامل نہ ہو۔بعض لوگوں نے مجھے لکھا ہے کہ آپ نے جو گزشتہ سال کہا تھا کہ یہ تحریک صرف ایک سال کے لئے ہے اور اب پھر اس سال کے لئے جاری رکھنے کا آپ نے اعلان کر دیا ہے۔حالانکہ میں نے ہرگز ایک سال کے لئے نہیں کہا تھا بلکہ تین سال کے لئے کہا تھا اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ تین سال اس کی موجودہ صورت کی میعاد ہے نہ یہ کہ تین سال کے بعد قربانیاں ختم ہو جائیں گی۔پس جو یہ خیال کرتا ہے کہ ایک سال نہیں تین سال کے بعد بھی قربانیاں ختم ہو جائیں گی اسے چاہئے کہ اس تحریک میں ہرگز شامل نہ ہو۔میں نے یہ تحریک قربانی ختم کرنے کے لئے نہیں بلکہ اعلیٰ قربانیوں کے لئے تیار کرنے اور ان کی مشق کرانے کے لئے جاری کی ہے۔پس جس کے ذہن پر قربانی کے ختم ہونے کا خیال غالب ہے اسے اس میں ہر گز شامل نہیں ہونا چاہئے۔انسانوں کی طرح بعض اموال بھی بابرکت ہوتے ہیں اور برکت والا مال وہی ہو سکتا ہے جس کے پیچھے اخلاص کی روح ہو۔جو آج اور کل کو دیکھتا ہے وہ میرے لئے دیتا ہے نہ خدا کے لئے اس لئے اس کے مال میں برکت نہیں ہوسکتی۔انسان ہمیشہ مرتے ہیں اور مرتے جائیں گے۔پس کسی انسان کی خاطر قربانی کرنا انسان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔قربانی وہی مفید ہو سکتی ہے جو خدا کے لئے ہو اور خدا کے لئے آج اور کل کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔مال بھی انہی لوگوں کے بابرکت ہو سکتے ہیں جن کے لئے وقت کا سوال نہ ہو اور جن کی قربانیوں کا زمانہ اس حد تک بلکہ اس سے بھی آگے تک چلتا ہے جب تک خدا کا نور نہیں پھیلتا کیونکہ تبلیغ کے بعد تربیت کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے اور پھر تربیت کے لئے اسی طرح قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے جس طرح تبلیغ کے لئے اور ایسا زمانہ کوئی نہیں ہو سکتا جب تربیت کی ضرورت نہ رہے۔مسلمان اس وقت کمزور ہوئے جب وہ یہ سمجھنے لگ گئے کہ ہمیں صرف دو تین یا چند سالوں کے لئے ہی قربانیوں کی ضرورت تھی۔پس یا درکھو! کہ قربانی کا زمانہ مومن کے لئے کبھی ختم نہیں ہوتا۔قربانیوں کی شکلیں بدلیں گی ممکن ہے کچھ عرصہ کے بعد اور قسم کی قربانیاں کرنی پڑیں مگر مومن کے لئے قربانی کا زمانہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔جن لوگوں نے اسلام کو میری تحریک جدید کی طرح عارضی سمجھا وہی اس کا بیڑہ غرق کرنے والے ہوئے ، انہوں نے تلوار کے جہاد کو ہی اسلام سمجھا اور جب وہ غیر قوموں کی حکومتوں کو مٹا چکے تو سست ہو کر بیٹھ گئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ آئندہ ایسی نسلیں پیدا ہوئیں جو اسلام سے غافل ہو گئیں اور ہوتے ہوتے مسلمان ذلیل ہو گئے۔ایک زمانہ تھا کہ مسلمان سے زیادہ قابل اعتماد اور کوئی نہ سمجھا جاتا تھا۔مسلمان کہہ دیتا تھا کہ یوں ہو گا اور لوگ سمجھ لیتے تھے کہ بس بات ختم ہوگئی ضرور اسی طرح ہوگا لیکن آج یہ حالت ہے کہ وہ کوئی بات 211