تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 210
خطبہ جمعہ فرموده 29 نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ہے اور سنبھال سنبھال کر اور گرد سے بچا کر رکھتا ہے مگر جونہی وہ آئینہ خراب ہو جاتا اور میلا ہو جاتا ہے اور اس میں اس کی شکل نظر نہیں آتی یا چہرہ خراب نظر آتا ہے تو وہ اسے اٹھا کر پھینک دیتا ہے اور جب میں یہ کہہ رہا ہوں تو رویا میں دیکھتا ہوں کہ میرے ہاتھ میں ایک آئینہ ہے اور ان الفاظ کے کہنے کے ساتھ ہی وہ میلا ہو جاتا ہے اور کام کا نہیں رہتا اور میں کہتا ہوں کہ انسان کا دل بھی خدا تعالیٰ کے مقابل پر آئینہ کی طرح ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس میں اپنے حسن کا جلوہ دیکھتا ہے اور اس کی قدر کرتا ہے مگر جب وہ میلا ہو جاتا ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کا حسن ظاہر نہیں ہوتا تو وہ اسے اس طرح اٹھا کر پھینک دیتا ہے جس طرح خراب آئینہ کو اٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے اور یہ کہتے ہوئے میں نے اس آئینہ کو جو میرے ہاتھ میں تھا زور سے اٹھا کر پھینک دیا اور وہ چکنا چور ہو گیا اس کے ٹوٹنے سے آواز پیدا ہوئی اور میں نے کہا جس طرح خراب شدہ آئینہ کو توڑ دینے سے انسان کے دل میں کوئی درد پیدا نہیں ہوتا اسی طرح ایسے گندے دل کو توڑنے کی اللہ تعالیٰ کوئی پروا نہیں کرتا۔غرض انسان کی پیدائش کی غرض ہی یہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے نور کو ظاہر کرے اور جب اس نور کے پھیلنے میں کوئی روک پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ ایک ایسی جماعت کو کھڑا کر دیتا ہے جو صیقل کرنے والی ہوتی ہے اور اس کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ خدا کے نور کو دنیا میں پھیلائے اگر وہ کامیاب نہ ہو اور نور کو پھیلا نہ سکے تو اسے بھی توڑ دیا جاتا ہے۔وہی آئینہ جو دنیا کی حسین ترین ہستی کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور جس پر اس ہستی سے محبت کرنے والے رشک کرتے ہیں وہ جب میلا ہو جاتا ہے اور کام کا نہیں رہتا تو اسے پھینک دیا جاتا ہے اور وہ ٹکڑے ہو کر بازاروں اور گلیوں میں جوتیوں کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔پس صرف نقطہ نگاہ کی تبدیلی کی ضرورت ہے جس دن یہ خیال تمہارے دل سے نکل گیا کہ احمد بیت ایک سوسائٹی ہے جس میں شامل ہو کر کچھ لوگ ایک دوسرے سے تعاون کرتے اور ہمدردی کرنے کا اقرار کرتے ہیں اور جس دن تم نے یہ سمجھ لیا کہ احمدیت خدا کے نور کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے اس دن نہ میرے خطبات کی ضرورت رہے گی اور نہ کسی کے وعظ ونصیحت کی ، اس دن ایسی تبدیلی تمہارے اندر پیدا ہو جائے گی اور ایسی آگ روشن ہو جائے گی کہ شاید تمہیں روکنے کی ضرورت تو پیش آ سکے لیکن تحریک کی نہیں اور جب تک یہ روح نہیں اس وقت تک خطبات اور وعظوں کی ضرورت ہے۔پس تم یہ اچھی طرح سمجھ لو کہ جب تمہاری بعثت کی غرض ہی خدا کے نور کو پھیلانا ہے اور اس کے رستہ میں حائل شدہ روکوں کو دور کرنا ہے تو تمہاری قربانیوں کی کوئی مقدار مقرر نہیں کی جاسکتی اور کیا یا کیوں یا کیسے کا کوئی سوال ہی نہیں ہو سکتا۔جو اس خیال سے قربانی میں شامل ہوتا ہے کہ ایک یا دو سال کے بعد یہ ختم 210