تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 201

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول تقریر فرموده 17 نومبر 1935ء مرغبازی یا بٹیر بازی کے عادی تھے جسے قانون نے ایک حد تک روک دیا ہے وہ مولوی بازی کے بھی عادی ہیں، ایک مولوی ادھر کھڑا ہو جاتا ہے ایک اُدھر، ایک دوسرے کو چونچیں مارتے ہیں اور پبلک یہ تماشا دیکھ کر خوش ہوتی ہے۔یہ دراصل گرے ہوئے اخلاق کا مظاہرہ ہوتا ہے اور یہ ہمارے لئے ایسا ہی ہے جیسا کہ طہارت کے لئے جانا پڑتا ہے۔چوہڑے کے کام کو ذلیل سمجھا جاتا ہے مگر ایک وقت ہر انسان کو خود یہی کام کرنا پڑتا ہے۔ایسا ہی یہ کام ہے کہ دوسرے ہم پر پاخانہ چھینکتے ہیں اور ہم اُسے دور کرتے ہیں۔کوئی شخص اولا داس لئے نہیں پیدا کرتا کہ اس کی طہارت کرے مگر طہارت کا کام والدین کو کرنا ہی پڑتا ہے۔اس طرح ہمارا یہ مقصد نہیں کہ علما مباحثات کے لئے پیدا کریں بلکہ علما کی غرض یہ ہے کہ وہ آفیسرز کی طرح ہوں جو اپنے اردگرد فوج جمع کریں اور اس سے کام لیں یا اس گڈریے کی طرح جس کے ذمہ ایک گلے کی حفاظت کرنا ہوتی ہے اور یہ کام دس میں مبلغ بھی عمدگی سے کر سکتے ہیں۔جب تک ہمارے مبلغ یہ نہ سمجھیں اُس وقت تک ہمارا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔مبلغ کے معنے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ غیروں کو مخاطب کرنے والا مگر صرف یہ معنے نہیں ہیں اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ غیروں کو مخاطب کرانے والا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم سے بڑھ کر کون مبلغ ہو سکتا ہے؟ مگر آپ کس طرح تبلیغ کیا کرتے تھے ؟ اس طرح کہ شاگردوں سے کراتے تھے۔صحابہ میں آپ نے ایسی روح پھونک دی کہ انہیں اس وقت تک آرام نہ آتا تھا جب تک کہ خدا تعالٰی کی باتیں لوگوں میں نہ پھیلا لیں۔پھر صحابہ نے دوسروں میں یہ روح پھونکی اور انہوں نے اوروں میں اور اس طرح یہ سلسلہ جاری رہا حتی کہ مسلمانوں نے اس بات کو بھلا دیا تب خدا تعالیٰ نے اس روح کو دوبارہ پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا۔اس طرح بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم ہی تبلیغ کر رہے ہیں۔پس علما کا کام یہ ہے کہ وہ ایسے لوگ پیدا کریں جو دوسروں کو تبلیغ کرنے کے قابل ہوں، وہ خدمت گزاری اور شفقت علی الناس کا خود نمونہ ہوں اور دوسروں میں یہ بات پیدا کریں مگر عام طور پر مبلغ لیکچر دے دینا یا مباحثہ کر لینا اپنا کام سمجھتے ہیں اور خیال کر لیتے ہیں کہ ان کا کام ختم ہو گیا اس کا ایک نتیجہ تو یہ ہو رہا ہے کہ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ علما بے کا ر رہتے ہیں۔بات اصل میں یہ ہے کہ تقریر کرنے یا مباحثہ کرنے کے بعد مبلغ کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ کچھ آرام کرے کیونکہ بولنے کا کام مسلسل بہت دیر تک نہیں کیا جاسکتا بولنے میں زور لگتا ہے اور تقریر کے بعد انسان نڈھال ہو جاتا ہے۔مبلغ سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہر روز کئی کئی گھنٹے تقریر کرے اگر کوئی ایسا کرے تو چند ماہ کے بعد اُسے سل ہو جائے گی اور وہ مر جائے گا۔پھر روزانہ کہاں اس قدر لوگ مل سکتے ہیں جو اپنا کام کاج چھوڑ کر تقریر سننے 201