تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 200

تقریر فرمود : 17 نومبر 1935ء طرف سے یہی رائے آئی کہ مدرسہ احمدیہ قائم رہنا چاہئے۔تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول پس جب میں کوئی ایسا اجتماع دیکھتا ہوں تو یہ دونوں باتیں جو میرے پچپن کے کام ہیں جوانی کے کئی کاموں سے زیادہ خوشنما اور پسندیدہ نظر آتے ہیں۔میں آج بھی اسی خیال پر قائم ہوں جس پر اُس وقت تھا۔قرآن کریم سے صراحتاً معلوم ہوتا ہے کہ ایک خاص جماعت کو دین کی خدمت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَيكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ( آل عمران : 105) اور دوسری طرف فرماتا ہے: كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ( آل عمران: 111 ) سارے مومنوں کا فرض ہے کہ دعوت الی الخیر کریں۔تو ایک خاص جماعت کا ہونا ضروری ہے اور یہ لازمی چیز ہے۔کوئی فوج اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس کا ایک حصہ خاص کام کے لئے مخصوص نہ ہو اور تمام نیچر میں یہی بات نظر آتی ہے کہ ایک ذرہ مرکزی ہوتا ہے۔مذہبی تبلیغ کے لئے بھی ایک ایسا مرکز ہونا چاہئے جو اپنے ارد گرد کو متاثر کر سکے اور دوسروں سے صحیح طور پر کام لے سکے یہی غرض مبلغین کی ہے لیکن عام طور پر خود مبلغین نے بھی ابھی تک اس بات کو نہیں سمجھا۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ احمدیت کے سپاہی ہیں اور کام انہیں خود کرنا ہے مگر جو یہ سمجھتا ہے وہ سلسلہ کے کام کو محدود کرتا ہے۔ہم خدمت دین کیلئے کس قدر مبلغ رکھ سکتے ہیں؟ اس وقت ساٹھ ستر کے قریب کام کر رہے ہیں جن کا جماعت پر بہت بڑا بوجھ ہے اور چندے کا بہت بڑا حصہ ان پر خرچ کرنا پڑتا ہے مگر وہ کام کیا کرتے ہیں؟ اگر کام کرنے والے صرف وہی ہوں تو سلسلہ کی ترقی بند ہو جائے۔ان کے ذریعہ سال میں صرف دو تین سو کے قریب لوگ بیعت کرتے ہیں اور باقی جن کی تعداد کا اندازہ دس بارہ ہزار کے قریب ہے، جماعت کے لوگوں کے ذریعہ احمدیت میں داخل ہوتے ہیں۔رہے مباحثات جو مبلغین کو کرنے پڑتے ہیں، یہ اسی وقت تک ہیں جب تک ہمارے ملک کے لوگوں کے اخلاق کی اصلاح نہیں ہوتی۔مباحثات پبلک کے اخلاق کی خرابی کی وجہ سے کرنے پڑتے ہیں۔جس طرح ہمارے ملک میں لوگ 200