تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 199
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول تقریر فرموده 17 نومبر 1935ء پھر خدا تعالیٰ نے مجھے اس موقع پر ایک جذباتی دلیل بتادی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ مدرسہ احمدیہ کو آپ کی یاد گار بنا دیا جائے۔میں نے کہا ہم سے پہلے کچھ لوگ تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ تھے ، جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رحلت فرمائی تو ایک عام بغاوت پھیل گئی اور ایسا خطرہ پیدا ہوا کہ مدینہ بھی محفوظ نہیں رہے گا اس وقت صرف تین مقامات پر نماز با جماعت ہوتی تھی اور بہت سے لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا، اس وقت بعض صحابہ نے حضرت ابو بکر سے درخواست کی کہ آپ اس وقت ذرا نرمی سے کام لیں اور کچھ قوموں سے جو ز کوۃ دینے سے انکار کر رہی ہیں زکوۃ لینا چھوڑ دیں اس پر حضرت ابو بکڑ نے فرمایا اگر کوئی شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت اونٹ باندھنے کی رسی بھی زکوۃ میں دیتا تھا تو میں اُسے بھی نہ چھوڑوں گا خواہ خون کی ندیاں بہ جائیں اور خواہ خطرہ اتنا بڑھ جائے کہ مدینہ کی گلیوں میں صحابہ کی بیویوں کو دشمن گھسیٹتے پھریں۔میں نے کہا ایک طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعض صحابہ آپ ﷺ کی ایک یادگار میں جو خاص طور پر آپ ﷺ کی طرف منسوب بھی نہیں تھی کچھ تغیر کرنے کے لئے کہتے حضرت ابوبکر صاف انکار کر دیتے ہیں اور ہر خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں لیکن ادھر ہم یہ نمونہ پیش کر رہے ہیں کہ وہ مدرسہ احمد یہ جسے حضرت مسیح موعود کی یاد گار بنایا گیا تھا اس پر پورا سال بھی گزرنے نہیں پایا کہ اس کے بند کرنے پر تیار ہو گئے۔رض میں سمجھتا ہوں میری اس دلیل نے لوگوں کو زیادہ اپیل کیا ادھر میں نے تقریر ختم کی اُدھر لوگوں نے کہنا شروع کر دیا مدرسہ احمدیہ ضرور قائم رہنا چاہئے۔مجھے یاد پڑتا ہے میرے بعد شاید خان صاحب برکت علی صاحب بولے لوگوں نے کہا اب ہم اور کچھ سنا نہیں چاہتے مدرسہ احمدیہ کا قائم رکھنا ضروری ہے۔جب اخلاص سے کوئی شخص بات کرتا ہے تو اس پر قائم بھی رہتا ہے مگر مدرسہ احمدیہ کو بند کرنے والوں میں چونکہ اخلاص نہ تھا اس لئے اپنی بات پر قائم نہ رہے۔جب مدرسہ احمدیہ کو جاری رکھنے کے حق میں کوئی بات پیش ہوتی تو وہ کہہ دیتے یہی تو ہمارا مطلب تھا ہم بھی یہی کہتے تھے۔آخر کہا گیا کہ یہ امر تمام جماعتوں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔انہوں نے سمجھا کہ اس وقت جذبات ٹھنڈے ہو جائیں گے اور مدرسہ احمدیہ کو بند کرنے پر لوگوں کو آمادہ کر سکیں گے۔چنانچہ ایجنڈا میں اس تجویز کو جس رنگ میں درج کیا گیا اس سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ مدرسہ احمدیہ کا بند کرا نا منظور ہے لیکن جماعت کے لوگ چونکہ محسوس کر چکے تھے کہ مدرسہ احمد یہ ضروری چیز ہے اس لئے تمام جماعتوں کی 199