تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 198
تقریر فرموده 17 نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول جائے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ جس انسٹی ٹیوشن کی ضرورت کا انکار نہیں کیا جا سکتا اس کے کے قائم رکھنے کا موجب بنوں۔اس تجویز کے مطابق مدرسہ احمدیہ قائم کیا گیا یا یوں کہنا چاہئے کہ اسے مضبوط کر دیا گیا کیونکہ کچھ جماعتیں پہلے جاری تھیں اس وقت عام طبائع میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ اچھے پیمانہ پر اسے چلانا چاہئے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مئی 1908 ء میں فوت ہوئے اور دوسرا جلسہ جو دسمبر 1908 میں ہوا اس میں جماعت کے سامنے یہ سوال رکھا گیا کہ مدرسہ احمدیہ کی غرض کیا ہے؟ صرف یہ کہ ملا پیدا کرے اور ملاؤں نے پہلے ہی دنیا کو تباہ کر رکھا ہے پھر اس مدرسہ سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ یہ سوال جلسہ عام میں پیش کرنے کی بجائے مصلحتی مجلس شوری میں پیش کیا گیا جس میں ساری جماعتوں کے نمائندے موجود تھے۔وہ لوگ جو اس وقت خاص اثر اور رسوخ رکھتے تھے یعنی خواجہ کمال الدین صاحب، ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب ، سید محمد حسین شاہ صاحب، مولوی محمد علی صاحب ان کی تجویز یہ تھی کہ تعلیمی وظائف بڑھا دئیے جائیں اور پاس ہونے کے بعد ان میں سے جو دین کی خدمت کے لئے زندگی وقف کریں انہیں ایک آدھ سال میں قرآن پڑھا کر مبلغ بنادیا جائے۔نا معلوم کیا سبب ہوا ؟ اس وقت ہم تفخیذ الاذھان کا کام بھی کیا کرتے تھے، میں اس میں مصروف رہا یا کوئی اور کام تھا مجلس شوری کے شروع ہونے کے وقت میں وہاں نہ پہنچ سکا اور جب وہاں پہنچا تو خواجہ کمال الدین صاحب تقریر کر رہے تھے اور بڑے زور سے یہ کہہ رہے تھے کہ ہماری جماعت بڑی عقلمند ہے وہ کسی چیز کا ضائع ہونا گوارا نہیں کر سکتی ہمیں چونکہ انگریزی دان مبلغ چاہئیں اس لئے مدرسہ احمدیہ پر اس قدر خرچ کرنے کی ضرورت نہیں۔اس وقت میں نے دیکھا کہ قریباً سب لوگ متاثر ہورہے تھے چنانچہ ان کی تقریر کے بعد کچھ اور لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ان کی تائید کی اور آوازیں آنے لگیں کہ ٹھیک ہے ایسا ہی ہونا چاہئے۔اس قسم کی مجلس میں بولنے کا میرے لئے پہلا موقع تھا۔اس وقت میں نے اس طرف توجہ دلائی کہ دنیا میں ہر چیز اپنے لئے ماحول چاہتی ہے اور اس کے لئے ضروری انتظامات کی ضرورت ہوتی ہے یہ خیال کر لینا کہ کوئی شخص کچھ دن دینیات کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دین سے پوری طرح واقف ہوسکتا ہے اور اس کے تاثرات دین کے متعلق ایسے مضبوط ہو سکتے ہیں جیسے اس شخص کے جسے بچپن سے دین کی تعلیم حاصل کرنے پر لگایا گیا ہو، یہ غلط ہے۔دین سے صحیح واقفیت رکھنے والے علما پیدا کرنے کے لئے مدرسہ احمدیہ کی ضرورت ہے اور اُسے قائم رکھنا چاہئے۔198