تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 180
خطبه جمعه فرموده 15 نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول برے اعمال کو بھول جاتے ہیں اور ہماری معمولی باتیں انہیں یاد رہتی ہیں اور یہی ہماری فتح کی علامت ہے۔دو سال ہوئے میں نے لاہور میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر تقریر کی تو ان ہی کی قماش کے لوگوں کی طرف سے آدمی بھیجے گئے کہ جلسہ میں شور کریں اور ابھی میں نے تقریر شروع ہی کی تھی کہ ایک مولوی صاحب کہنے لگے کہ پگڑی تو اتنی بڑی باندھی ہوئی ہے مگر باتیں کیسی کرتا ہے حالانکہ نہ میں نے کسی پر اعتراض کیا تھا اور نہ کسی کی تردید کی تھی صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بیان کرنے لگا تھا کہ اس نے کہ دیا: پگڑی تو اتنی بڑی باندھی ہوئی ہے اور باتیں کیسی کرتا ہے؟ تو انہیں اپنی یہ باتیں بھول جاتی ہیں انہیں یہ یاد نہیں کہ سیالکوٹ میں جو ان کا بڑا مرکز ہے، ہمارے ایک جلسہ میں ان کے ہیں ہزار آدمی برابر ایک گھنٹہ دس منٹ تک ہم پر پتھر برساتے رہے جس سے ہمارے 24 آدمی زخمی ہوئے جن میں سے بعض کو شدید زخم آئے وہاں پولیس افسر موجود تھے مگر وہ بھی انہیں روکتے نہیں تھے بلکہ ان میں سے ایک ان کو انگیخت کر رہا تھا کہ روشنی میں پتھر نہ مارو اس طرح ہم پر الزام آتا ہے، اس درخت کے پیچھے چھپ کر مارو۔آخر سپرنٹنڈنٹ پولیس جو ایک انگریز تھے وہاں پہنچے مگر وہ بھی ایک عرصہ تک انتظام نہ کر سکے۔پھر ڈپٹی کمشنر صاحب آئے یہ سب ان کو روکتے رہے مگر وہ برابر پتھر مارتے گئے حتی کہ ہمارے 24 آدمی زخمی ہو گئے اور ان میں سے ایک کا ہاتھ اب تک بے کار ہے مگر میں نے اپنے آدمیوں سے کہہ دیا کہ ان کی طرف مخاطب نہ ہوں ، ماریں کھائیں مگر بولیں نہیں اور ہمارے آدمی اسی طرح چپ بیٹھے رہے جس طرح آپ لوگ اس وقت بیٹھے ہیں۔جو زخمی ہوتا وہ اٹھ کر چلا جاتا یا دوسرے اٹھا کر اسے لے جاتے تھے مگر اپنی جگہ سے کوئی نہ ہلتا تھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک شدید مخالف جو کئی بار اس سے پہلے ہمیں گالیاں دے چکا تھا ، آدھی رات کو ہماری قیام گاہ پر آیا اور اس نے کہا کہ جنگ اُحد کی باتیں ہم سنا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ کہانی ہے مگر آج اُحد کا نظارہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا جس وقت یہ لوگ پتھر مار رہے تھے کئی احمدی رؤسا میرے پاس آئے کہ خطرہ بڑھ رہا ہے آپ سی پر نہ ٹھہریں مگر میں نے انکار کر دیا اور کہا کہ ہم نہیں ہلیں گے جب تک تقریر نہ کر لیں۔باوجود یکہ میرے چاروں طرف دوست اخلاص سے کھڑے تھے مگر پھر بھی میز پر ایک پتھروں کا ڈھیر لگ گیا اور دوسرے دن کئی من پتھر وہاں سے دوستوں نے جمع کئے اور گوچاروں طرف سے دوست احاطہ کئے کھڑے تھے پھر بھی تین پتھر مجھے بھی آکر لگے۔تو یہ شرمناک نظارہ، یہ بے حیائی اور بے غیرتی کا نظارہ انہیں بھول جاتا ہے لیکن ہمارے ایک بے وقوف نوجوان کی بات یاد رہتی ہے؟ مگر ان کا حق ہے کہ ایسا کریں اس لئے کہ وہ ایسی قوم ہے جس نے خدا تعالیٰ کے نور کو نہیں دیکھا اور تم نے اس کی تازہ 180