تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 179

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمود : 15 نومبر 1935ء بیٹھا ہوا کھانا کھا رہا ہو اور باہر نکل کر محلہ والوں کو گالیاں دینے لگ جائے۔پس اچھے اخلاق کی یہی علامت ہے کہ انسان اس وقت بھی اپنے جذبات کو قابو میں رکھے جب اسے اشتعال دلایا جاتا ہوا اگر احرار یہاں آئے تو ان کی طرف سے اشتعال دلانے کی پوری کوشش کی جائے گی یعنی اگر وہ کا نفرنس کے لئے آئے یا اگر مباہلہ کی نیت سے آئیں تو اس کا کوئی خطرہ نہیں کیونکہ اس صورت میں وہ زیادہ سے زیادہ ایک ہزار آدمی ہوں گے اور تقریریں وغیرہ کوئی نہیں کریں گے بلکہ زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس منٹ میں ہر ایک فریق اپنا عقیدہ بیان کر دے گا اور پھر دعا کر کے دونوں فریق اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں گے مگر جیسا کہ اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے وہ جلسہ کے لئے آئیں گے اور اشتعال دلانے کی کوشش کریں گے اور چونکہ میں نے بھی جماعت کو اجازت دے دی ہے کہ وہ اس سال ان کی تقریروں کا جواب جلسوں وغیرہ کے ذریعہ سے یا لٹریچر تقسیم کر کے دے سکتے ہیں اور میرا حکم گزشتہ سال کی طرح یہ نہیں کہ ہمارے دوست گھروں میں رہیں حتی کہ کوئی اشتہار بھی تقسیم نہ کیا جائے اس لئے اس دفعہ احتیاط کی اور بھی ضرورت ہے۔گزشتہ سال ہم نے یہ حکم حجت تمام کرنے کیلئے دیا تھا اور حجت پوری کرنے کے لئے بعض دفعہ انسان اپنے حقوق بھی چھوڑ دیتا ہے کیونکہ انتہائی نمونہ دکھائے بغیر دشمن کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے۔پس یہ بتانے کے لئے کہ حکومت نے بھی ہمارے ساتھ تختی کی ہے اور احرار نے بھی زیادتی کی ہے، ہم اپنے حقوق سے بھی دست بردار ہو گئے تھے مگر اس دفعہ یہ نہیں ہوگا بلکہ اگر کوئی احمدیت پر حملہ کرے گا تو ہمیں پورا حق ہوگا کہ خواہ تقریر سے خواہ تحریر سے جواب دیں یا افراد سے الگ الگ ملاقات کر کے دیں۔ہمارے آدمی وہاں جائیں اور ان کی باتوں کو نوٹ کریں اور پھر ان کی تردید مناسب موقع پر کریں اور اگر ان کے لیکچرار کوئی چیلنج دیں تو اسے قبول کریں۔غرض قانون نے ہمیں جو حقوق دیئے ہیں اور شریعت نے ان کو رد نہیں کیا، ہماری جماعت کو اجازت ہوگی کہ انہیں پوری طرح استعمال کرے مگر ہماری طرف سے بداخلاقی نہیں ہونی چاہئے۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ کسی نے گالی دی تو اس کا جواب گالی میں دے دیا یا جلسہ میں ہی : تَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَذِبِينَ (آل عمران : 62 ) کہہ دیا جیسا کہ پچھلے دنوں ایک نوجوان نے ان کی تقریر میں ایسا کہہ دیا تھا۔یہ طریق ہماری جماعت کے لئے مناسب نہیں۔گو میں سمجھتا ہوں کہ احرار کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ ان کے اعمال کی تاریکی انہیں دوسرے پر ایسا اعتراض کرنے کی اجازت نہیں دیتی مگر مشکل یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے 179