تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 171

تحریک جدید- ایک ابھی تحریک۔۔۔جلد اول خطبه جمعه فرموده یکم نومبر 1935ء اسے اپنے اس رویہ میں تبدیلی کرنی چاہیئے۔ہمارے تعلقات اس سے دوستانہ رہے ہیں اور اب بھی ہم رکھنا چاہتے ہیں اس لئے بحیثیت ایک ایسے شخص کے جس نے خدا کی زندہ قدرتوں کا مشاہدہ کیا، جس نے خدا کی مالکیت کا مشاہدہ کیا، اس کی ملوکیت کا مشاہدہ کیا، حکومت کی خیر خواہی کی غرض سے یہ کہتا ہوں کہ حکومتیں تبھی تک قائم رہ سکتی ہیں جب تک ان کی بنیاد تقویٰ اور خشیت اللہ پر ہو۔مذہب اور چیز ہے اور خشیت اللہ اور چیز۔عیسائی، یہودی، سکھ اور ہندو بھی خدا سے ڈرسکتا ہے۔حکومت کو بھی چاہئے کہ خدا سے ڈرے کہ اسی میں اس کی کامیابی ہے اور اسے چھوڑنے میں اس کے لئے سراسر ضرر ہے۔جن افسروں نے جماعت احمدیہ کے وقار کو توڑنے کی کوشش کی ان کو گرفت کرنی ضروری ہے۔بے شک حکومت کہتی ہے کہ اس طرح اس کا پر سٹیج قائم نہیں رہ سکتا مگر اسے یادرکھنا چاہئے کہ اس سے ایک بالا حکومت کے پر سٹیج کا سوال بھی اب پیدا ہو چکا ہے اور غور طلب امر یہ ہے کہ اگر حکومت کو باوجود اپنے افسروں کے غلطی پر ہونے کے ان کے پر سٹیج کا خیال ہے تو کیا ہمارے خدا کو اپنے خادموں کے پر سٹیج کا با وجود ان کے حق پر ہونے کے خیال نہ ہو گا ؟ ہوگا اور ضرور ہو گا۔ان افسروں نے دیکھ لیا ہے کہ وہ سال بھر کی لگا تار کوشش کے باوجود ہمیں بغاوت کی طرف مائل نہیں کر سکے۔ہم آج بھی حکومت کے ویسے ہی وفادار ہیں جیسے کہ پہلے تھے اور آئندہ بھی ہم کبھی قانون شکنی نہیں کریں گے مگر معاملہ ہمارے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جو تمام بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔میں حکومت کے رویہ میں ایک نیک تغیر محسوس تو کرتا ہوں مگر ایسے ہی وقتوں میں انصاف کرنا اور غلطی کا ازالہ کرنا ضروری ہوتا ہے تا خدا کے فضل کا وارث بنا جا سکے۔اللہ تعالیٰ نے حکومت کو ایک رنگ میں تنبیہہ بھی کی ہے جس طرح کہ احرار کو کی ہے۔مسجد شہید گنج کا جو قضیہ ہوا ہے وہ ایک نشان ہے احرار اور حکومت کے لئے۔کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ احرار جو کا نگری ہیں اور حکومت جس کے فوائد ان کے خلاف ہیں وہ دونوں ایک ہی سوال کے متعلق تشویش میں پڑ جاتے ہیں؟ میں دیکھتا ہوں ابھی یہ سوال دبا نہیں ابھی چند روز ہوئے لاہور میں ایک مسلمان نے ایک سکھ کو ہلاک کر دیا اور بعض ہندوؤں سکھوں کو زخمی کیا لوگ کہتے ہیں وہ مجنون تھا۔میں کہتا ہوں اچھا یونہی سہی لیکن اگر دلوں میں منافرت نہیں ہے تو جنون میں اسے یہ خیال کیوں آیا کہ سکھوں اور ہندوؤں کو ہی ماروں؟ اس کا مطلب یہی ہے کہ ہوش کے وقت اس کے خیالات ہندوؤں اور سکھوں کے متعلق ایسے پراگندہ تھے کہ جنون میں بھی یہی خیال قائم رہا اور بھی بعض ایسے حالات موجود ہیں اور پیدا بھی ہو رہے ہیں۔ہمیں ان حالات میں حکومت سے ہمدردی ہے مگر ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکومت کو تنبیہ ہے۔وہ بتانا چاہتا ہے کہ تم میرے نمائندے 171