تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 163

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبه جمعه فرموده یکم نومبر 1935ء (التوبة: 39) ہے مگر ابھی بہت ہیں جن کو اپنے اندر تغیر پیدا کرنا چاہئے۔بہر حال میں نے ایک اعلان کیا تھا اور جماعت نے اس کا ایسے رنگ میں جواب دیا جو دشمن کے لئے حیرت انگیز ہے مگر ہمارے لئے نہیں کیونکہ ہم نے جو کام کرنا ہے اس کے لئے بہت سی قربانیوں کی ضرورت ہے۔اس سکیم کو چونکہ فی الحال ہم نے تین سال تک چلانا ہے اس لئے آئندہ چند خطبوں میں اگر اس میں سے کسی بات میں تبدیلی کرنی ہوئی تو وہ ورنہ پھر اسی مضمون کو بیان کروں گا تا جماعت کے دوستوں کے دماغوں میں پھر سب باتیں مستحضر ہو جائیں اور اس خطبہ کے ذریعہ اعلان کرتا ہوں کہ ہر جماعت جمعہ یا اتوار کے روز جیسا بھی اس کے حالات کے مطابق مناسب ہو ان خطبات کو اپنے اپنے ہاں سنانے کا انتظام کرے تاسب دوست آگاہ ہو جائیں۔یا درکھو کہ تمہارے لئے ایک آزمائش ہے بہت بڑی آزمائش ! جس میں اگر تم پورے نہ اُترے تو جیسا کہ میں نے قرآن کریم کا جو رکوع ابھی پڑھا ہے اس کا آگے چل کر ترجمہ کرتے ہوئے بتاؤں گا تمہارے لئے سخت مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ یعنی ہم ایسے لوگوں کو جو ہمارے فرائض کو ادا نہیں کرتے تباہ کر کے دوسروں کو ان کی جگہ کھڑا کر دیا کرتے ہیں۔دیکھو انسان اور جمادات میں یہی فرق ہوتا ہے انسان کے دل میں بھی کبھی آگ ہوتی ہے اور دھاتوں کو بھی آگ دی جاتی ہے۔دونوں کو آگ ملتی ہے مگر لوہا صرف تھوڑی دیر گرم رہتا ہے اور اسی وقت اسے کوٹا جاسکتا ہے جب وہ گرم ہو لیکن مومن انسان کا دل کبھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔مومن اور غیر مومن میں یہی فرق ہوتا ہے کہ غیر مومن جمادات کی طرح خاص موقعوں پر گرم ہوتے ہیں اور موقع کی تاک میں رہتے ہیں لیکن مومن کے لئے ہر وقت موقع ہوتا ہے۔جوش کی حالت میں ہر شخص قربانی کر سکتا ہے۔ایک منافق جس کی بزدلی کا ذکر خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اس کو ماں بہن کی گالی اگر کوئی دے تو وہ بھی مرنے مارنے پر تیار ہو جائے گا۔میں کسی مومن کو یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ منافق کو گالی دے بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر منافق کو جو بزدل ہوتا ہے اگر کوئی شخص گالی دے تو وہ بزدل ہونے کے باوجود اس سے لڑ پڑے گا۔ہمارے ملک میں مثل مشہور ہے کہ ایڑی کے نیچے آیا ہوا کیڑا بھی کاٹ لیتا ہے۔پس یہ کوئی بہادری نہیں کہ کسی وقت ایڑی کے نیچے آجانے کی وجہ سے تم کاٹ لو اس سے صرف یہ ثابت ہوگا کہ تمہاری غیرت کیڑے جتنی ہے مگر مومن کی غیرت ایسی نہیں ہوتی ، مومن کی غیرت پہاڑوں کو ہلا دیتی ہے۔وہ جن باتوں پر غیرت کھاتا ہے انہیں کبھی نہیں بھلاتا۔اگر بعد میں آنے والے مسلمان وہی غیرت رکھتے جوصحابہ کرام 163