تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 159
زیک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول احرار کو چیلنج اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 27 ستمبر 1935ء خطبہ جمعہ فرمودہ 27 ستمبر 1935ء احرار اپنے آپ کو آٹھ کروڑ مسلمانوں کا نمائندہ کہتے تھے حضور نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا:۔دیکھ لو! میں نے تبلیغ کو وسیع کرنے کے لئے نوجوانوں سے مطالبہ کیا کہ آؤ اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کرو! اس پر بیسیوں نہیں سینکڑوں نوجوانوں نے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔گریجوایٹوں کو پندرہ پندرہ روپیہ ماہانہ ملتا ہے اور اسی میں انہیں کھانا پینا اور دیگر ضروریات کو پورا کرنا پڑتا ہے مگر اس قلیل سی رقم پر وہ ہندوستان سے باہر جاتے اور تبلیغ اسلام کرتے ہیں جہاں غریب سے غریب آدمی کا بھی تمہیں چالیس روپیہ سے کم میں گزارہ نہیں ہو سکتا۔ذرا آٹھ کروڑ مسلمانان ہند کو اپنی بیعت میں شامل رکھنے کا ادعا کرنے والے بھی تو اس قسم کا اعلان کر دیکھیں پھر انہیں خود بخود نظر آ جائے گا کہ کتنے آدمی ان کی آواز پر لبیک کہتے ہیں یا مثلاً میں نے اعلان کیا کہ آؤ اور چندہ دو اور میں نے ساتھ ہی کہا کہ ابھی وہ اہم زمانہ نہیں آیا جس میں اس سے بہت زیادہ مالی قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے گا لیکن میں نے ساڑھے ستائیس ہزار روپیہ کی اپیل کی اور جماعت نے ایک لاکھ آٹھ ہزار کے وعدے کئے ہیں جن میں سے 82 ہزار سے کچھ زیادہ روپیہ وصول ہو چکا ہے اور ابھی میعاد ختم نہیں ہوئی۔22 نومبر کو میں نے یہ اعلان کیا تھا جس کے ماتحت ابھی ایک مہینہ سے زیادہ کا عرصہ رہتا ہے بلکہ قریباً دو مہینے ابھی باقی ہیں اور اُمید کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت حد تک وعدے پورے ہو جائیں گے۔“ ( مطبوع الفضل 6اکتوبر 1935ء) 159