تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 148
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 15 مارچ 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول خدا تعالیٰ ہم سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ ہم زمین میں پھیلیں اور احمدیت کی تبلیغ کریں۔میں نے اس تحریک کے ذریعہ اس کی ابتدا کر دی ہے اسی طرح جس طرح باغ لگانے والا پنیری تیار کرتا ہے اور یہ ارادہ کیا ہے کہ سر دست چند آدمی ایسے تیار کریں جو مختلف ممالک میں جائیں اور احمدیت کا بیج بوئیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جماعت کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ ہمارے اکثر لوگ باہر جا ئیں اور مختلف ممالک میں پیغام احمدیت پہنچانے لگ جائیں۔دراصل ہمارے لئے اس بات کا جانا اور سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ کس ملک کو اللہ تعالیٰ نے اشاعت احمدیت کا مرکز قرار دیا ہے۔قادیان کا مرکز بنایا جانا محض اس بات کی دلیل ہے کہ قادیان قابلیت رکھتا ہے لیڈری کی اور قادیان قابلیت رکھتا ہے۔پنیری کی تیاری کی مگر یہ ضروری تو نہیں کہ یہ باغ کے بڑھنے کے لئے بھی اچھی جگہ ہو جو قابل لیڈر ہو ضروری نہیں ہوتا کہ وہ اچھا سپاہی بھی ہو۔بعض جرنیل بڑے اچھے ہوتے ہیں لیکن اگر انہیں سپاہی بنادیا جائے تو ناقص ثابت ہوتے ہیں اسی طرح بعض قابل سپاہی ہوتے ہیں لیکن انہیں جرنیل بنایا جائے تو ناقص ثابت ہوتے ہیں۔پس قادیان کو مرکز بنا دینے کے یہ معنی نہیں کہ یہاں جماعت بھی زیادہ پھیلے گی۔پچاس سال کے قریب سلسلہ احمدیہ پر گزر گئے مگر ابھی تک یہاں غیر احمدی موجود ہیں اور ان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ہمارا شدید دشمن ہے اور نہ اس نے احمدیت قبول کی ہے اور نہ وہ احمدیت قبول کرنے کے لئے تیار ہے۔پھر وہ اتنا گند اچھالنے والا اور اتنا جھوٹ بولنے والا طبقہ ہے کہ جو بات ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی وہ اسے ہماری طرف منسوب کر دیتا ہے مکہ میں بھی دیکھ لو یہی حالت تھی۔چنانچہ مکہ میں اس سرعت سے اسلام نہیں پھیلا جس سرعت سے مدینہ میں پھیلا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیرہ سالہ تبلیغی مساعی کا یہ نتیجہ تھا کہ اتی یا بعض روایات کے رُو سے تین سو افراد آپ پر ایمان لائے مگر مدینہ میں دو سال کے اندر سارے مدینہ نے اسلام قبول کر لیا۔تو بعض مقام لیڈری کے لحاظ سے مرکز ہوتے ہیں اور بعض اشاعت کے لحاظ سے مرکز ہوتے ہیں۔“ اگر تم چاہتے ہو کہ تم خدا تعالیٰ کی برکت حاصل کرو تو آؤ دین کے کام میں لگ جاؤ اور اشاعت اسلام کے لئے اپنی زندگیوں کو وقف کر دو۔وَ اللهُ خَيْرُ الرَّازِقِيْنَ اور یہ مت خیال کرو کہ اگر تم دین کے لئے اپنا مال خرچ کرو گے، دین کیلئے اپنی جانیں قربان کرو گے اور دین کیلئے اپنا وقت دو گے تو تمہیں اس سے نقصان ہوگا بلکہ یا درکھو وَ اللهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ جب اس طرح مال خرچ کرو گے تو خدا تعالی تمہیں دنیا کا بادشاہ بنا دے گا۔دولت تمہارے قدموں میں آئے گی اور یہ چھوٹی چھوٹی قربانیاں تمہیں بالکل حقیر اور ذلیل نظر آنے لگیں گی۔“ "" ( مطبوع الفضل 29 مارچ 1935ء) 148