تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 144

خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جنوری 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اس کے حال پر چھوڑ دو تو کہتے ہیں اس کے منہ میں مٹی ڈالو مگر سننے والوں نے یوں فرمانبرداری کرنی شروع کی کہ مٹی کے بورے بھر لئے اور ان عورتوں کے مونہوں پر مٹی پھینکنی شروع کر دی۔حضرت عائشہ کو معلوم ہوا تو آپ سخت ناراض ہو ئیں اور فرمایا ایک تو ان کے گھر میں ماتم ہو گیا ہے اور دوسرا تم ان ر مٹی ڈالتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ منشا تو نہ تھا جو تم سمجھے۔پس اخلاص کے ساتھ عقل و ہم نہایت ضروری ہوتا ہے۔صرف عربی کتابیں رٹوا دینے سے کیا بن جاتا ہے جب تک فہم وفراست نہ پیدا کی جائے ، وسعت حوصلہ نہ پیدا کی جائے اور اس بات کی ہمت نہ پیدا کی جائے کہ انہوں نے دنیا کو فتح کرنا ہے۔پس صدر انجمن پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور پروفیسروں پر بھی اور میں امید کرتا ہوں کہ صدر انجمن کو رسوں کو بدل کر ، استادوں کو بدل کر ، نظام کو بدل کر ، طریق نگرانی کو بدل کر ایسا انتظام کرے گی کہ ہمارے طالب علم ایک زندہ دل اور امنگوں سے بھرا ہوا دل لے کر نکلیں گے اور ہر تغیر جو دنیا میں پیدا ہوگا انہیں قربانی پر آمادہ کرے گا اور ہر تغیر ان کے دل میں ایسی گدگدی پیدا کر دے گا کہ وہ خدا کے دین کی آواز پر لبیک کہے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ایسے طالب علم جب پیدا ہو جا ئیں گے تو ہمیں کسی مبلغ کی ضرورت نہیں رہے گی۔یہ لوگ اپنی ذات میں مبلغ ہوں گے اور بغیر کسی تحریک کے آپ ہی دنیا کی ہدایت کے لئے گھروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ورنہ پر تکلف مبلغ سے دنیا کیا فائدہ حاصل کر سکتی ہے؟ اب بہت سے لوگ شکایتیں کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے مبلغوں کی ڈاڑھیاں چھوٹی ہوتی ہیں۔میں نے بھی یہ نقص دیکھا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ حضرت علی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کی ڈاڑھی چھوٹی تھی۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لمبی ڈاڑھی رکھا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اول کسی بھی لمبی ڈاڑھی تھی اور میری ڈاڑھی بھی لمبی ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بھی بڑی ڈاڑھی تھی۔حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کی بھی بڑی ڈاڑھی تھی۔یہ مان لیا کہ حضرت علیؓ کی چھوٹی ڈاڑھی تھی مگر ممکن ہے اس کی وجہ ان کی کوئی بیماری ہو یا کوئی اور۔اور اگر یہ بات نہ بھی ہو تب بھی کیوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نقل نہ کی جائے اور حضرت علی کی نقل کی جائے ؟ بہر حال ڈاڑھیوں میں نقص ہے۔اسی طرح ہمارے مبلغ ظاہری تکلفات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور اکثر یہ شکایت کرتے رہتے ہیں کہ فلاں جگہ کی جماعت اتنی ست ہے کہ ہم وہاں گئے مگر اس نے ہم سے کام نہیں لیا۔حالانکہ یہ مبلغ کا اپنا فرض ہے کہ وہ کام کرے کیونکہ ہم تو مبلغ سمجھتے ہی اس کو ہیں جو آگ ہو۔کبھی آگ بھی کہا کرتی ہے کہ مجھے سلگایا ہیں جاتا ؟ وہ تو خود بخو سکتی ہے اور اگر ایک گھر کو گنتی ہے تو ساتھ کے دس گھروں کو بھی اپنی 144